حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 362 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 362

جگہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں عمل الترب کے ذریعے بیماروں کو اچھا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ورنہ مسیح سے بڑھ جاؤں۔دوسرا یہ عمل تو کفّار بھی کر لیتے ہیں۔ان دونوں میں ایک نبی کے عمل کو مکروہ فرمایا۔مَیں نے کہا۔آپ مولوی عباﷲ کو جانتے ہیں۔جنہوں نے تخقہ الہند لکھی ہے۔کہا ہاں وہ تو میرے پیرو مرشد تھے میں نے کہا۔سنا ہے کہ بہت سے ہندؤوں کو مسلمان کر لیا تھا۔کہا۔کیوں نہیں۔تین سو سے زیادہ کو مسلمان کر لیا تھا۔جس مدرسہ میں صڑھتے تھے اس کے تمام طالبعلم مسلمان ہو گئے۔میں نے کہا تو نے تورات پڑھی ہے اس میں لکھا ہے کہ نوحؑ نے ۸۰ آدمی ۹۵۰ برس کی تعلیم میں مسلمان کئے۔اب میں کس طرح مان لوں کہ مولوی عبداﷲ نے چند سالوں میں ۳۰۰ کافر مسلمان کر لئے۔کیا ایک امّتی نبی سے برھ کر ہو سکتا ہے ؟ اس نے کہا بات تو ٹھیک ہے۔آپ ہی جواب دیں۔میں نے کہا۔سُنو۔جو ہتھیار مولوی عبداﷲ کے پاس تھا (قرآن مجید) وہ نوحؑ کے پاس نہیں تھا۔پس فضیلت تو حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی طفیل ہے۔یہی بات یہاں سمجھ لو۔دومؔ۔یہ بتاؤ کہ قرآن شریف خدا کا معجزہ کلام ہے یا نہیں؟ کہا۔ضرور۔میں نے کہا وہ کس زبان میں ہے۔کہا۔عربی میں۔میں نے کہا۔ابوجہل کون سی زبان بولتا تھا۔کہا۔عربی۔میں نے کہا۔ہتک کر رہے ہو۔جو زبان خدا کی طرف سے معجزہ ہے وہی ایک کافر کا فعل قرار دے رہے ہو۔یہ سُن کر مہبوت رہ گیا۔سومؔ میں نے اسے کہا۔آپ ایک تصویر یا بُت بناؤ۔میں آپ کو ایک مسئلہ سمجھاتا ہوں۔اس پر وہ جھٹ بولا کہ تصویر یا بُت بنانا تو حرام ہے۔میں حرام فعل کا ارتکاب کیونکر کروں؟ میں نے دو تین بار یہ فقرہ اس سے دہرایا۔پھر کہا۔ہوش کرو۔ایک نبی کے فعل کو حرام قرار دے رہے ہو۔(آل عمران:۵۰) دیکھو حضرت صاحب نے تو ادب کیا ہے اور صرف یہی فرمایا کہ میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں۔ورنہ ایسا کر سکتا۔اور تم جو صریح حرام کہہ رہے ہو۔وہ بہت نادم ہوا اور کہا کہ سب سوالوں کا جواب آ گیا۔یہ باتیں علم سے نہیں آیتں۔خدا کے فضل سے آتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) یہ غلط ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جب تک جتھّہ نہ تھا۔آپؐ نے جنگ نہ کی۔حضرت نوحؐ کے پاس کون سا جتھہ تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔مگر جب وقت آیا تو ایک ہی دعا سے بیڑہ غرق کر دیا۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۹صفحہ۳۵۷) اس نو آریہ مکذب کے جواب میں کہ چند فٹ لمبی چوڑی کشتی میں روئے زمین کے تمام چرند پرند مع خوارک گپ ہے۔فرمایا۔نوحؑ کی کشتی کتنے فٹ تھی۔چند فٹ تھی۔یہ تم نے قرآن پر افتراء کیا ہے۔چند فٹ لمبی بھی جھوٹ ا