حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 355 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 355

ضوابط اٹل ہیں۔مگر بڑے تعجّب کی بات ہے کہ بایں ہمہ لوگ دین میں بد اعمالی و نیک اعمالی کے نتائج سے غافل ہیں اور جنّت کو بغیر کسی صالح عمل اور ایمانِ صحیح کے حاصل کرنا چاہتے ہیں دین کے بارہ میںاِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ تَحِیْم (اﷲ بخشنہار ہے)اِنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ(اﷲ ہر چیز پر قادر ہے) پڑھنے میں بڑے دلیر ہیں۔(تشحیذالاذہان نمبر۲ صفحہ) ۸۔    : ہر چیز جو کمال کو حاصل کرتی ہے۔چھ مراتب کو طے کر کے۔فرماتا ہے کہ آسمان و زمین کو پیدا کیا۔پھر اسے کمال تک پہنچایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۱۰۔  : جو لوگ خدا کی کتاب اور خاتم النبیّینؐ کے حالات و تعلیمات سے ناواقف ہیں ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔دنیا میں کبھی خوشی آتی ہے اور کبھی غمی اور کبھی صحت ہوتی ہے اور کبھی بیماری اور کبھی دُکھ اور کبھی سُکھ۔انسان پر یہ دونوں حالات ضرور آتے ہیں۔مگر ایک نبیوں کے متبع ہوتے ہیں۔ایک جو انکی تعلیمات کی پرواہ نہیں کرتے۔یہاں آخرالذکر کا ذکر ہے۔: بے ایمان انسان ناامید ہو جاتا ہے۔مگر نبیوں کے متبع کی نسبت مثنوی میں آیا ہے ؎ ہر بلاکیں قوم راحق دادہ است زیرِ اُو گنج کرم بنہادہ است