حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 340
۶۲۔ ایک اور معیارب صداقت بتاتا ہے۔تم نے سنا ہو گا کہ حضرت عمرؓ بڑے رُعب والے تھے۔حضرت علیؓ نے کوفہ میں جا کر جب بہت سی مشکلات دیکھیں تو ابن عباسؓ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے پہلے لوگوں کو اتنی جرأت نہ ہوئی تھی۔انہوں نے کہا۔ابن عباس! تم ہی کہو۔جب تم آذربائیجان میں تھے تو عمرؓ کی نسبت کیا خیال کرتے تھے۔وہ بولے کہ مَیں تو ایسا سمجھتا تھا کہ ایک جبڑا تو ان کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے پر پاؤں رکھا ہوا۔چاہیں تو ابھی چیر دیں۔اس پر حضرت علیؓ نے کہا۔کیا تو میرا بھی رُعب ایسا مانتے ہو؟ غرض ان خلفاء راشدین کے ۱؎ جمع لَا اَدْرِیْ : میں نہیں جانتا۔مرتّب وقت کے جلال اور شوکت پر نظر کرو۔پھر دیکھو کہ ایسے بارعب آدمیوں کو بھی مارنے والے نے سرِ مجلس مار دیا۔حضرت عثمانؓ کا پانی تک بند کر دیا۔قتل بھی کیا۔انکی چلتی پرزہ قوم کی کچھ پیش نہ گئی۔حصرت علیؓ کی شجاعت نے بھی کچھ کام نہ دیا مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ایسی حالت میں تھے کہ چاروں طرفوں سے دشمنوں کا نرغہ تھا۔پھر بھی کوئی آپؐ کے قتل پر کامیاب نہ ہو سکا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کہ آپؐ نے خیمہ سے سر نکال کر باہر دیکھا کہ کوئی پہرہ دے رہا ہے۔آپؐ نے فرمایا۔تم چلے جاؤ پہرہ کی ضرورت نہیں اس حفاظت کا ذکر آیت میں فرماتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء)