حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 341
۶۳،۶۴۔ : اب اولیاء اﷲ کے نشان بتاتا ہے۔ایک تو یہ ہے کہ ان کو خوف نہیں ہوتا کہ ہم ناکام رہیں گے۔نہ حُزن ہوتا ہے کہ ہمیں یہ نقصان پہنچے گا۔حصرت عمرؓ و علیؓ کے قتل سے بھی اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے مقبوضات ابھی تک تیرہ سو برس سے مسلمانوں کے قبضہ میں چلے آتے ہیں۔کربلا کا واقعہ جو پیش کرتا ہے۔اُسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہاں کے عارضی فاتحین کا نام و نشان تک نہیں۔اور جو وہاں شہید کئے گئے۔ایک دنیا میں ان کا ڈنکا بج رہا ہے۔سیّد تو ہر گاؤں میں ملیں گے۔مگر کوئی نہیں ملے گا جو اپنے تئیں یزید کی اولاد سے کہے بلکہ نام بھی یزید ہو۔خوارج تک کا یہ نام نہیں ہوتا۔: یہ ولی اﷲ کی تعریف ہے۔ایمان لائے اور پھر تقوٰی میں ترقّی کرتا رہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۶۵۔ : ضرور ہے کہ وہ دنیا میں بھی مبشرات ( الہامات) سے مشرّف ہوں اور اس دنیا میں وہ آخر کی زندگی کا جلوہ دیکھیں۔: خدا کی باتیں اٹل ہوتی ہیں۔عیسائیوں نے یہاں دھوکہ کھایا ہے وہ کہتے ہیں کہ کلام اﷲ میں تحریف نہیں ہوئی۔حالانکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کی پیشگوئیاں ضرور واقع ہوتی ہیں۔اور ان کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء) پر اعتراض کیا ہے ’’ اگر کلمات سے مراد قانونِ قدرت ہے تو قرآن میں خلاف قانون قدرت کیوں؟… اگر آیات ہیں تو نسخ کیوں؟ محقّق کتنے ہی احکام قرآن سے دکھا سکتا ہے جو پہلے جائز کئے اور پھر ممنوع۔شراب پہلے حرام نہیں کیا پھر حرام کیا۔اسی طرح بیت المقدس قبلہ رکھا۔پھر نہ رہا۔‘‘ الجواب: جس کو تم قانونِ قدرت کہتے ہو اس کے خلاف بھی قرآن کریم میں ایک کلمہ نہیں مگر یہ یاد رہے کہ قانونِ قدرت میں تھیوریاں، خیالی فلسفہ پیش نہ کرنا۔سائنس کے