حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 255
قرآن مجید کو بتوجّہ تمام مطالعہ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے صفات و افعال میں بے مثل ہے لَیْسن کَمِثْلِہٖ شَیْیٌٔایک اﷲ تعالیٰ کا اِحیا ہے۔ایک انبیاء کا اِحیا ہے۔چنانچہ ایک مقام پر فرمایا جس سے کھل جاتا ہے کہ رسول کا اِحیا کیا ہے۔اور اسی سے مسیحؑ کے احیا کی حقیقت کھُل جاتی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ صفحہ ۱۷۶) ۲۶۔ : جب مصیبت آ جائے تو سب لپیٹے جاتے ہیں۔عیسٰی ہدَینِ خود موسیٰ بَدینِ خود کا اصل غلط ہے۔وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِکو مت چھوڑو۔ورنہ بدی کی وجہ سے عذاب آنے پر سب کو ملوّث ہونا پڑے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ا۔اَمَّا الدَّوَایَۃُ فَقَالَ ابْنُ جَرِیْد ـــــــ نَزَلَتْ فِیْ عَلٍّی وَّ عُثْمَانَ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَوَلَمْ یندْرُوْا زَمَانًا اَنَّھُمْ مِنْ اَھْلِھَا فَاِذَا ھُمْ مُعِیْنُوْنَ بِھَا۔(جلد۹۔۱۳۵) ابن جریر فرماتا جے کہ یہ آیت دربارہ حضرت علی۔عثمان۔طلحہ۔زبیر نازل ہوئی۔ان کو ایک عرصہ تک نہیں معلوم ہوا کہ ہمارے حسب حال ہے۔پس ایک وقت آ گیا کہ وہ اس آیت کے مصداق ہو گئے۔ب۔وَعَنِ السَّدِیِّ۔انَّھَانَزَلَتْ فِی اَھْلب بَدْرٍ اَصَابَتْھُمْ یَوْمَ الْجَمَلِ اَقُوْلُ الْمَالُ وَاحِدٌ۔اور سدی سے ہے کہ یہ اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔جنگ جمل میں ان پر یہ مصیبت پڑی۔بہر حال دونوں کا مآل ایک ہی ہے۔