حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 256
ج۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اُمَرَ اﷲُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْ لَّایَقرُّوْا الْمُنْکَرَبَیْنَ اَطْھُرِھِمْ فَیَعُمُّھُمْ اﷲُ بِالْعَذَابِ وَقَالَ عَبْدُاﷲِ اَنَّ اﷲَ تَعَاَلیٰ یَقُوْلُ اِنَّمَا اَمْرَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔لَاتُصِیْبَنَّ نَھْیٌ بَعْدَنَھْیٍ۔ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ برائی کو اپنے سامنے نہ ٹھہرنے دیں ورنہ ان سب کے اوپر عذاب آئے گا۔اور عبداﷲ نے کہا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے مال۔تمہاری اولاد فتنہ ہے اور لَا تُصِیْبَنَّ نھیہے بعدنھی کے۔د۔وَ فِی الْخَازِنِ۔لَمْ تَقْتَصِرْ عَلَی الظَّالِمِ خَاصَّۃً بَلْ تَتَعَدِّیْ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا وَّ تَصِلُ اِلیَ الصَّالِعِ وَالطَّالِحِ(جلد ۲ صفحہ ۲۱۱) اور خازن میں ہے کہ یہ عذاب بالخصوص ظلم پر ہی مقصور نہ رہے گا بلکہ تم سب پرچھا جائے گا اور نیک و بد گنہگار ناکردہ گناہ دونوں پر اس کا اثر پہنچے گا۔جلد ۲ صفحہ ۲۱۱ ر۔اِبْنُ کَثِیْرٍ لاَ یَخُصُّ بِھَا اَھْلَ الْمَعَاصِیْ وَلَا مَنْ بَاشَرَالذَّنْبَ بَلْ یَعُمُّھَا وَبَیْنَ قبصَّۃِ الذُّبَیْرِ ونھٰکَذَا فِی فَتْحِ الْبَیَانِ وَ اِبْنُ کَثِیْرٍ وَزَادَکَالْْقَحْطِ وَالْغَلَا وِ تَسْلُطُ الظَّلَمَۃَ وَکَذَا قَالن الْحَسَنُ نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ وَّ عُثْمَانَ وَلَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ وَکَذَفِی دُرِّ الْمَنْثُورِ وَجَمَعَ الدِّونایَاتِ اَمَّا اَھْلُ لدِّرَایَۃِ فَصَدَّقُوْا مَا فِی الدِّوَایَۃِ ونزَادُوْ ا بِقَرَائَۃِ اِْنِ مَسْعُوْدٍ لَتُصِیْبَنَّ لَا کِنْ مِنْ اَیْنَلَنَا قمرْاٰنُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وناُبَیّ وَ بَعْضُھُمْ ابجْتَرَاَحَتّٰیفَالَ زَائِدَۃٌ وناَمَّاقَوْلُھُمْ بِتَاکِیْدِالنُّوْنِ فَیَرَدُّ عنلَیْھِمْ قَوْلُہٗ تنعَالٰی امدْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ۔ابن کثیر فرماتے ہیں گنہگار ہی اسی سے خاص نہیں اور نہ وہ جو گناہ میں ملوّث ہو۔بلکہ یہ عام ہے پھر قصّہ زبیر لکھا ہے فتح البیان میں بھی ایسا ہی ہے۔اور اس پر زیادہ کیا ہے کہ فتنہ مثلاً قحط گرانی اشیاء، ظالموں کا تسلّط ہو جانا۔اور ایسا ہی حسنؓ نے کہ کہ یہ دربارہ علی و عثمان و طلحہ والزبیر نازل ہوئی۔اور درّ منثور میں بھی ایسا ہی ہے اس نے بہت سی روایتیں جمع کی ہیں۔اہل درایت نے جو کچھ روایت میں آیا اس کی تصدیق کی۔ہاں قرأت ابن مسعود لکھی ہے کہ یہ لَتُصِیْبَنَّ ہے لیکن ابن مسعود و اُبّی کا قرآن کہاں ہے ؟بعضوں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ لَا زیادہ ہے اور یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ لَا نون کا مؤکد ہے تو اس کی تردید میں یہ قول کافی ہے۔اُدْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ لا یَحْطِمَنَّکُمْ سلیمان و جنودہٗ پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر تم گھروں میں داخل ہو گئے تو ضرور تمہیں سلیمان اور اس کا، لشکر کچل ڈالے گا۔ہالانکہ