حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 237
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دامنِ نبوّت دیکھو تو قیامت تک وسیع، کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔یہ کثرت تو بلحاظ زمان ہوئی اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ اِنِّیْ رَسُوْل اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔میں ظاہر فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں۔یہ کوثر مکان کے لحاظ سے عطا فرمائی۔کوئی آدمی نہیں ہے جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکامِ الہٰی میں اتباعِ رسالت پناہی کی ضرورت نہیں۔کوئی صوفی۔کوئی مست قلندر۔بالغ مرد۔بالغ عورت کوئی ہو۔اس سے مستثنٰیٰ نہیں ہو سکتے۔کوئی آدمی مقرب ہو نہیں سکتا جب تک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچی اتباع نہ کرے۔(الحکم ۱۲؍مئی ۱۸۹۹ء) آپؐ کا دامن نبوّت دیکھو تو وہ قیامت تک وسیع ہے کہ کوئی نبی نیا ہو یا پرانا آہی نہیں سکتا۔کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔یہ کثرت تو بلحاظ زمان کے ہوئی اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ اِنِّیْ رَسُوْل اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا میںفرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں۔یہ کوثر بلحاظ مکان کے عطا ہوئی۔کوئی آدمی نہیں جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الہٰی میں اتباعِ رسالت پناہی کی ضرورت نہیں کوئی صوفی۔کوئی بالغ مرد یا بالغہ عورت۔کوئی ہو۔اس سے مستثنٰیٰ نہیں ہو سکتے۔(الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵) ۱۶۲۔ : استغفار جس کا نتیجہ ہے۔: فرماں برداری جس کا نتیجہ ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۶۳۔