حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 236
: اب تو قرآن گویا قسم کھانے کیلئے رکھا یا عمل حُبّ و بُغض و حصولِ رزق کیلئے افسوس جو قرآن حبّ بغیر اﷲ کو چھوڑوا کر الحُبُّ لِلّٰہ کیلئے آیا اس سے یہ امید رکھی جاوے۔ایک دفعہ ایک شخص نے جو میرا پیر بھائی تھا۔مجھے ایک عمل لکھ بھیجا کہ اسے پڑھنے سے ڈیڑھ سو روپیہ آمدنی ہو جائے گی، جو مَیں نے کیا۔مگر کجھ فائدہ نہ ہوا۔عرضِ حال پر اس نے مجھے لکھا ؎ بمطلب مے رس جو یائے کام آہستہ آہستہ زِ دریا مے کشد پیاد دام آہستہ آہستہ اس کے بعد جب میں نے وہ عمل کیا اور اپنی اوسط آمدنی نکالی۔تو سچ مچ ڈیرھ سو نکلی۔مگر معاً میرے دل میں آیا۔یہ اس عمل کا نتیجہ ہے یا طبابت کا۔اس بات کو صاف کرنے کیلئے میں نے ارادہ کیا کہ پہلے صرف طبابت کرتا ہوں۔پھر دوسرے مہینے طبابت چھوڑ کر صرف یہ عمل کروں گا۔پھر دیکھوں گا۔کیا نتیجہ ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اس نے میری ہدایت کا سامان بہم پہنچایا۔اس مہینے مجھے طبابت سے ۱۲۰۰ روپے کی آمدنی ہوئی۔اس عمل کو میں نے اپنے خسارے کا موجب جانا۔اس لئے چھوڑ دیا۔کچھ مدّت بعد وہی عمل بتانے والا آیا جس نے آکر مجھ سے استدعا کی کہ مہاراج کے پاس مجھے ساٹھ روپے کا دعا گو ہی بنوا دو۔حتٰی کہ پندرہ روپے پر راضی ہو گیا۔جس سے صاف کُھل گیا کہ یہ فرقہ کیسا ذلیل ہے اور یہ راہ معنَم علیھم کی نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) انبیاء علیھم السّلام کی تعلیم کے لئے یہ ایک مشکل پیش آتی تھی کہ ان میں سے کوئی خلیفہ اور کوئی یاد دلانے والا نائب نہ ہوتا تھا اس لئے لوگ بے خبر ہو جاتے تھے اور قوم پھر سو جاتی تھی۔مگر مولیٰ کریم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوّت کا دامن چونکہالٰی یَوْم الْقَیٰمَۃ وسیع کر دیا ہے۔اور آپؐ کی بھی دعوٰی اِنِّیْ رَسُوْل اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا کا ہے۔اور ایسی مضبوط کتاب آپؐ کو عطا فرمائی۔ممکن تھا کہ لوگ بے خبر رہتے۔اس کی حفاظت کا انتظام بھی خود ہی مولیٰ کریم نے فرما دیا۔جیسے ظاہری حفاظت کیلئے قرّاء اور حُفّاظ ہیں ایسے باطنی تعلیم کیلئے ایک سامان مہیّا فرمایا… یہ احسان ہے۔اﷲ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے۔کہ بھولی بسری متاع اﷲ تعالیٰ جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اسکا یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے۔یہ انعام ہے۔یہ فضل اور احسان ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ کا۔(الحکم ۱۲؍مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴)