حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 110

  ۔  (الفجر: ۱۶، ۱۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلاء دو قسم کے ہیں۔ہمارے ملک میں اگر سکی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے۔بڑا فصل ہے۔جس سے مُراد یہ ہے کہ مال مویشی۔اولاد سب کچھ ہے۔اسی طرح فضل الہٰی کے چھِن جانے سے بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ یہ چیزیں ہیں نہیں۔اﷲ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتق ہے کہ فضل کا دار و مدار تو یتیم کے ساتھ سلوک کرنے۔کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب پر ہے۔اور یہ ئہ مال سے زیادہ مہبّت نہ ہو۔اس رکوع میں بعثت کے نشان فرمائے ہیں۔ترجمہ یہ جے کیا ہم اطلاع دیں تمہیں اس کی جس کو ایک بُرا نتیجہ ملا ہے۔: وہ ذلیل کر دیئے گئے۔چنانچہ یہودیوں کی نسبت ارشاد ہے۔اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَاﷲِ وَبِحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (آل عمران: ۱۱۳) اورلا تُنْصَرُوْنَ (ہود :۱۱۴) : مالِ دنیا کا حریص اور ٓشہوت کا حریص۔: حد سے نکلنے والے کافر ماں بردار۔: پاک، عمدہ، قریب راہ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍اگست ۱۹۰۹ء) ان سے کہہ میں تمہیں ان قوموں کی خبردوں۔جنہیں خدا کی طرف سے ان کے ایسے افعال کا بہت بُرا بدلہ ملا۔وہ وہ ہیں۔جنہیں خدا نے بندر اور سؤر اور شیطان کے پرستار بنا دیا۔یہ بہت بُرے پایہ کے لوگ ہیں اور سب سے زیادہ راہِ حق سے دُور بھٹکے ہوتے ہیں۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۸۰) وہ جو اپنے آپ کو ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے اُن کی نسبت قرآن ہی نے خود شہادت دی ہے۔اَکْثَرُھُمُ الْفَاسِقُوْنَ (آل عمران:۱۱۱) ان میں اکثر لوگ فاسق تھے اور یہاں تک فسق و فجور نے ترقی