حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 111

کی ہوئی تھی  یہ اس وقت کے لکھے پڑھے سجادہ نشین۔خدا کی کتاب مقدّس کے وارث لوگوں کا نقشہ ہے کہ وہ ایسے ذلیل و خوار ہیں جیسے بندر۔وہ ایسے شہوت پرست اور بے حیا ہیں جیسے خنزیر۔اس سے اندازہ کرو ان لوگوں کا جو پڑھے لکھے نہ تھے جو موسٰی کی گدّی پر نہ بیٹھے ہوئے تھے۔پھر یہ تو ان کے اخلاقِ بد، عادات بد یا عزّت و ذلّت کی حالت کا نقشہ ہے۔اگرچہ ایک دانشمند اخلاقی حالت اور عرفی حالت کو ہی دیکھ کر روحانی حالت کا پتہ لگا سکتا ہے۔مگر خود خدا تعالیٰ نے یہی بتا دیا ہے کہ رُوحانی حالت بھی ایسی خراب ہو چکی تھی کہ وہ عبدالطاغوت بن گئے تھے۔یعنی احدود الہٰی کے توڑنے والوں کے عبد بنے ہوئے تھے۔ان کے معبود طاغوت تھے۔اب خئال کرو کہ اخلاق پر وہ اثر۔رُوح پر یہ صدمہ۔عزّت کی وہ حالت؟ یہ ہے وہ قوم جو  کہنے والی تھی۔اس چھوٹے درجہ کی مخلوق کا خود قیاس کر لو۔یہ نقشہ کافی ہے۔عقائد کو سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے۔عزّت و آبرو کے سمجھنے کے لئے کہ جو بندر کی عزّت ہوتی ہے۔پھر یہ نقشہ کافی ہے۔اخلاق کے معلوم کرنے کیلئے جو نَزیر کے ہوتے ہیں کہ وہ سارا بے حیائی اور شہوت کا پُتلا ہوتا ہے۔جب ان لوگوں کا حال میں نے سنایا جو (المائدۃ : ۱۹) کہتے اور ابراہیمؑ کے فرزند کہلاتے تھے تو عیسائیوںپر اسی کا قیاس کر لو۔ان کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہ رہی تھی۔اور کفّارہ کے اعتقاد نے انکو پوری آزادی اور اباحت سکھا دی تھی اور عربوں کا حال تو ان سب سے بدتر ہو گا جن کے پاس آج تک کتاب اﷲ پہنچی ہی نہ تھی۔اور پھر یہ خصوصیت سے عرب ہی کا حال نہ تھا۔ایران میں آنش پرستی ہوتی تھی سچّے خدا کو چھوڑ دیا ہوا تھا اور اہرمن اور یزدان دو جُدا جُدا خدا مانے گئے تھے۔ہندوستان کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔جہاں پتھروں ، درختوں تک کی پُوجا اور پرستش سے تسلّی نہ پا کر آخر مردوں اور عورتوں کے شہوانی قوٰی تک کی پرستش جاری ہو چکی تھی۔غرض جس طرف نظر اُٹھا کر دیکھو۔جدھر نگاہ دوڑاؤ۔دنیا کیا بلحاظ اخلاقِ فاضلہ۔کیا بلحاظ عبادات اور معاملات ہر طرح ایک خطرناک تاریکی میں مبتلا تھی اور دنیا کی یہ حالت بالطبع چاہتی تھی کہ ع مردے ازغیب بروں آید و کارے میکند چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک رسول کو عربوں میں مبعوث کیا جیس کہ فرمایا۔(الجمعۃ : ۳) یہ رسول صرف عربوں ہی کے لئے نہ تھا۔باوصفیکہ عربوں میں مبعوث ہوا بلکہ اس کی دعوتِ عام اور کل دنیا کیلئے تھی جیسا کہ اُس نے دنیا کو مخاطب کر کے سنایا۔ (الاعراف :۱۵۹) اے لوگو مَیں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الانبیاء : ۱۰۸