حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 109
فرماں بردار ہیں۔اس آیت کو شیعہ نے حضرت علیؓ پر لگایا ہے اور ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ہی نے بحالتِ رکوع زکوٰۃ دی تھی۔مگر یہ انکی غلطی ہے۔ہمارے دوست حکیم فضل دین صاحب نے ایک دفعہ ایک شیعہ کو خوب جواب دیا۔پہلے اس سے دریافت کیا کہ حضرت ابوبکرؓ حضرت علیؓ کے مدّ مقابل میں تھے اس نے کہا۔ہاں۔انہوں نے خلافت غصب کی وغیرہ وغیرہ۔تب حکیم صاحب نے کہا تم ہوش کرو۔اسی آیت کے ساتھ لکھا ہے :(المائدہ: ۵۷) پس غالب تو تم خود ابوبکرؓ کو مانتے ہو۔حزب اﷲ سے بھی وہی ہوا۔اور یہی نشان ہے ان لوگوں کا جو کے مصداق ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) : خدا کے حضور عاجزی کرنیوالے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۵۰) ۵۹۔ قرآن کریم… تذلیل اور اہانت کے طور پر ان لوگوں کا حال بیان کرتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور بے عقلی کے بدنتائج میں مبتلا ہوتے ہیں۔جیسے فرمایا اور جب تم انہیں نماز کو بلاتے ہو۔اُسے حقارت اور کھیل میں اُڑاتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ب۔۱۲) ۶۰۔ انہیں کہہ۔اے کتاب والو۔تم اس لئے ہم سے بیزار ہو کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور تمہاری ناراضی کی جڑ یہ ہے کہ تم حدود الہٰیہ کو توڑنے والے ہو۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۷۹۔۱۸۰) ۶۱۔