حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 100

مل گیا تو آکرت کی خبر درست ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) ۳۶۔  : اصل مقصد ساری تعلیم کا تقوٰی ہے۔تقوٰی کی ابتاء یہ ہے۔کہ ایمان بالڈیب خدا پر ہو۔دُعا میں لگا رہے۔کچھ ہاتھ سے دے۔پھر اس سے بڑھ کر کسی نبی پر بدگمان نہ ہو۔الہٰی کتابوں پر ایمان رکھے۔قرآن مجید کو اﷲ کی طرف سے جاتے۔دوسرا مرتبہ وہ ہے جو رکوع سورۃ بقرہ لَیْسَ الْبِرُّ (البقرہ : ۱۹۰) میں اﷲ پر ایمان۔ملائکہ پر۔کتب پر۔انبیاء پر ایمان ہو۔ذَوِی الْقُرْبٰی۔یتامٰی۔مساکین وغیرہ کو دے۔صبر و استقلال سے بسر کرے۔تیسرا مرتبہ۔آخری یہ ہے کہقَالُوْا رنبُّنَا اﷲُ ھُمَّ اسْتنقَامُوْا (حٰم سجدہ:۳۱) اور قُلِ اﷲُ ثُمَّ ذَرْھُمْ (انعام:۹۲) اﷲ ہی اﷲ رہ جائے۔یاد رکھو معاشرت کے اصولوں میں سے اعلیٰ اصول یہ ہے کہ حکموں کا پابند ہو۔یہ بدمعاش لوگوں کا اصول ہے کہ دنیا کمائے مکر سے۔ایسے لوگ کبھی سُکھ نہیں پاتے۔وَ ابْتَغُوْ ٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ : وسیلہ کے دو معنے ہیں۔ایک تو حاجت۔پس مطلب یہ ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ۔دیکھو سورۃ بنی اسرائیل  (بنی اسرائیل ۵۸) یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ تو خود اپنی حاجتیں ربّ کے حضور مانگتے ہیں ابن عباسؓ کا ایک شعر کُلُّ الرِّجَالِ لَھُمْ اِلَیْکن وَسبیْۃٌ د وسرے معنے ہیں ذریعہ کے۔اور ذرائع چار قسم کے ہیں۔ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو با ایمان کہتے ہیں۔ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کوعقل مند کہتے ہیں۔ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کوبے ایمان کہتے ہیں۔ایک ذریعہ جسے اختیار کیا جائے تو اختیار کرنے والے کو بے عقل کہتے ہیں۔مثلاً اﷲ کے حکموں کو ماننا۔نیک بننا۔ہدایت کی بات مان لینا۔یہ تمام مذہبوںکا متفق علیہ مسئلہ ہے پس اس ذریعہ پر عمل کرنیوالا باایمان ہے۔