حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 99
۔مدینہ کے یہود جو بنو اسحاق تھے انہوں نے نبی کریمؐ اسمٰعیل کی اولاد کو قتل کرنا چاہا۔سوا نہیں بتایا گیا کہ دیکھو اس سے پہلے ایک بھائی نے دوسے بھائی کو قتل کر کے کیا لیا۔سوا اسکے کہ خاسر و نادم ہوا۔اور انہیں سمجھایا کہ صرف اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو پہلے سے یہ حکم دے رکھا ہے کہ جو ایسے عظیم الشان نفس کو قتل کرے گا وہ گویا سارے جہان کے قتل کامرتکب ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) : نفس محمد رسول اﷲ۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۰) ۳۴۔ سزا انکی جو جنگ کرتے ہیں اﷲ اور اسکے رسول سے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کیلئے ریشہ دوانیاں کرتے ہیں۔یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا صلیب دیئے جائیں۔اس خلاف ورزی یا مخالف سمتوں سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں۔یا ملک سے نکالے جائیں۔یہ سزا اس لئے ہے کہ دنیا میں انہیں رسوائی ہو اور آخرت میں ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۵) سوائے اسکے نہیں کہ جزا ان لوگوں کی جو اﷲ اور اسکے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں۔یہ ہے کہ قتل کئے جاویں یا سُولی دیئے جاویں یا اُس زمین سے جلاوطن کئے جاویں۔یہ واسطے ان کے رسواکی ہے دنیا میں اور آخرت میں ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۳) : اﷲ کے دین کا مقابلہ کرتے ہیں۔: بوجہ انکی خلاف ورزی کے۔امام ابوحنیفہؒ نے لکھا ہے کہ مجرموں کی کئی قسمیں ہیں پس انکے موافق ان سزاؤں میں سے کوئی سزا دی جائیگی۔: یہ نشان ہے آخرت میں عذاب کا۔دنیا میں حسبِ پیشگوئی جب