حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 101

دومؔ مثلاً پار جانا ہے۔دریا میں موجوں پر موجیں آ رہی ہیں۔اب وہاں کشتی کا سامان کرنیوالا عقلمند کہلاتا ہے۔سومؔ مثلاً بُت پرست بُت کے آگے ناچتا ہے۔عمدہ کھانے بکا کے اسکے سامنے رکھتا ہے۔قبر کو سجدہ کرتا ہے۔اﷲ کے نام کے سوا کسی کا روزہ طِواف قربانی کرتا ہے۔اس وسیلہ کو اختیار کرنیوالا بے ایمان ہے۔چہارمؔ مثلاً ایک ایسا آدمی ہے جو ان وسائل کو جو قدرت نے کسی مطلب کے حصول کیلئے بنائے ہیں۔ان پر جھوٹا قیاس کرتا ہجے مثلاً باریک سوئی ململ کو سِی سکتی ہے تو وہ سمجھے کہ ہل کا پھالا بطریق اولیٰ اسے جلد سی سکتا ہے یا جیسے بیوقوف لوگ کہا کرتے ہیں کہ جب معمولی آدمی اس دنیا میں ہماری مدد کرتے ہیں۔تو نبی۔ولی جسم سے الگ ہو کر بد وفات بطریق اَولیٰ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔کوئی شخص جہاز میں لوہا سمجھ کر پھر بہت سا لوہا لے کر اس پر ہو بیٹھے اور سمجھے کہ میں اس پر پار کر جاؤں گا۔یہ بے عقل ہے۔پس الوسیلہ فرمایا۔یعنی ذریعہ ہو۔مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمانی کا تو نہیں۔عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقوٰی کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہوں۔پھر یہ کہ مجاہدہ فی سبیل اﷲ کرے۔جب ان تین قاعدوں پر چلے گا تو مظفر و منصور ہو گا۔بعض لوگ حقیقی ذرائع سے کام نہیں لیتے اور چاہتے ہیں کہ گھر بیٹھے ہم کو عمدہ لباس۔عمدہ مکان۔راحت و آرام کی چیز مل جائے۔ایسے لوگ آخر مثلاً چوری کا پیشہ وغیرہ ناجائز اختیار کر لیتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۳۹۔  : چور اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔یہ بدلہ ہے انکے کسب کا اور عبرت کا موجب ہے اﷲ کی طرف ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ۷۵) : مرد ہو یا عورت ایسے پیشہ وروں کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء)