حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 62
حقائق الفرقان ۶۲ سُوْرَةُ الْمُدرِ نافرمانی کرتے ہیں۔اس لئے خدا کا حکم ہے کہ تمہارا کام سمجھانا اور ڈرانا ہے۔تم اپنا کام کئے جاؤ۔لوگوں کو سمجھاتے جاؤ اور ڈراتے جاؤ اور اس ڈرانے میں یہ کوشش کرو کہ وربَّكَ فَكَبِّرُ - - وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ - یعنی خدا تعالیٰ کی عظمت، جبروت کا ذکر ہو اور اپنی غلطیوں کی بھی اصلاح کرو۔چوری ، بدنظری ، بدکرداری اور دیگر تمام بدیوں کو پہلے خود چھوڑ دو اور یہ وعظ اس لئے نہ ہو کہ بس آپ کھڑے ہوئے یہ کہو۔کہ میرے لئے کچھ پیسے جمع کرو۔بلکہ محض اللہ کے لئے کرو۔میں سال سائل کے لئے پکا تھا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہبی کچھ اسی طرح تھا۔یہ بڑا معرفت کا نکتہ ہے۔جو میں نے تمہیں سنایا ہے۔دوسروں کوضرور ہر روز نصیحت کرو۔اس سے تین فائدے ہوتے ہیں۔اول خدا کے منکر ، نہی عن المنکر کی تعمیل ہوئی ہے۔دوسرے ممکن ہے کہ جس کو نصیحت کی جائے۔اس کو نیک کاموں کی توفیق ملے۔تیسرے جب انسان اپنے نفس کو مخاطب کرتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے اور اس کی بھی اصلاح ہوتی ہے۔تمہارے بیان بیان میں خدا کی عظمت اور اس کی قدرت و تصرف کا ذکر ہو۔اس کا تین طرح دنیا میں مقابلہ ہوتا ہے بعض لوگ تو منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ نہ ہم مانتے ہیں اور نہ ہم سننا چاہتے ہیں۔اور بعض سنتے ہیں مگر عمل کرنے کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ قسم قسم کے وجوہات نکال کر واعظ میں نکتہ چینی کرتے ہیں۔مگر واعظ کو چاہیے کہ اللہ کے لئے صبر کرے اور اپنا کام کرتا چلا جائے۔( بدر جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱٫۳۱ کتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳) اے لحاف میں لیٹے ہوئے ( یہ اشارہ قبل نبوت کی حالت پر ہے ) کھڑا ہو۔پھر ڈرسنا۔اور اپنے رب کی بڑائی بول۔اور اپنے کپڑے پاک رکھ اور کشتھری کو چھوڑ دو اور نہ کر کہ احسان کرے اور بہت چاہے اور اپنے رب کی راہ دیکھ۔ٹیاب کے معنی نفس اور دل کے بھی ہیں۔محاورہ ہے۔سَلِّي ثِيَابِي عَنْ ثِيَابِكِ أَن قَلْبِي عَنْ ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۲۴ حاشیه ) قلبك -