حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 61
حقائق الفرقان ۶۱ سُوْرَةُ الْمُدَّثِرِ یہ سورۃ المدثر کا ابتدا ہے۔یہاں فرمایا ہے۔کس نے فرمایا ہے؟ تمہارے رب محسن ، مربی ، منعم اور بڑے بادشاہ نے فرمایا ہے۔اُس مولیٰ نے جس نے تم کو ہاتھ ، ناک ، کان دیئے۔ایسا حسن ، مربی اپنی پاک کتاب میں فرماتا ہے۔یا یهَا الْمُدَّ ثِرُ۔ہوا اور کھانے پینے کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں ہوتا۔مگر اب بھی ایسی قومیں ہیں کہ وہ کپڑے وغیرہ کا استعمال نہیں جانتیں۔بنارس میں ایک ساد ہو تھا۔وہ ننگا رہا کرتا تھا۔لوگ اس کی بڑی قدر کرتے تھے۔افریقہ میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ بیویوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔مگر ان میں وحشت ہے اور ننگے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ کو لباس پہنایا۔قُم فَانْذِرُ اس لئے کھڑا ہو جا اور کھڑے ہو کر جولوگ بدکار ہیں نافرمان ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے حکموں کی پرواہ نہیں کرتے۔ان کو ڈراؤ۔میرا خیال ہے کہ جو حکم کوئی بادشاہ کسی جرنیل یا بڑے حاکم کو دیتا ہے۔اس کی تعمیل اس کی سپاہ اور رعایا پر بھی فرض ہو جاتی ہے یہ حکم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔اس لئے یہ ہم پر بھی فرض ہے۔بہت سارے لوگ ایماندار بھی بنتے ہیں اور پھر شرک بھی کرتے ہیں۔اکثر لوگوں کا اگر تم حکم مانو گے تو وہ تم کو گمراہ کر دیں گے خدا کا حکم مانو۔بادشاہ اور بڑے بڑے حکام لوگوں کی اصلاح کے لئے کیسے کیسے قانون بناتے ہیں۔اور دو تین برس اس کی نگرانی کرتے اور پھر اس کو جاری کرتے ہیں۔پھر اس پر نظر ثانی کر کے اصلاح کرتے ہیں۔پھر اس کو شائع کرتے ہیں۔غرض مقنن اور تجربہ کارلوگ کیسی کیسی تکلیفیں لوگوں کی بھلائی کے لئے برداشت کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی بھی نافرمانی کرتے ہیں۔دیکھو! پولیس کیسی کوشش لوگوں کے امن وامان کے لئے کرتی ہے اگر چہ پولیس میں بھی بعض بدکار پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن تاہم وہ لوگوں سے چوری ، بدکاری چھڑانے میں کوشاں رہتی ہے۔لیکن جس قدر نئے نئے قانون وضع ہوتے ہیں۔اسی قدر شریر لوگ شرارت کی راہیں نکال لیتے ہیں۔اس لئے ہر ایک شخص کو تم میں سے چاہیے کہ وہ اٹھ کر ہر روز لوگوں کو سمجھائے۔اگر کوئی کسی کی بات نہیں مانتا۔تو اس کا کوئی مضائقہ نہیں۔لوگ بادشاہوں ، حکاموں اور دیگر اپنے بہی خواہوں کی