حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 510 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 510

حقائق الفرقان ۵۱۰ سُوْرَةُ الْفَلَقِ چار قل جو نماز میں اور نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں اُن میں سے یہ تیسرا قل ہے۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ قرآن شریف میں فلق کا لفظ تین طرح پر استعمال ہوا ہے۔فَالِقُی الْإِصْبَاحِ فَالِقُ الْحَب وَ النَّوى پس خدا فَالِقُ الْإِصْبَاحِ فَالِقُ الْحَثِ اور فَالِقُ النَّوَى ہے۔دیکھورات کے وقت خلقت کیسی ظلمت اور غفلت میں ہوتی ہے۔بجز موذی جانوروں کے عام طور سے چرند پرند بھی اس وقت آرام اور ایک طرح کی غفلت میں ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت تاکیدی حکم دیا ہے کہ رات کے وقت گھروں کے دروازے بند کرلیا کرو۔کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانک رکھا کرو۔خصوصا جب اندھیرے کا ابتدا ہو اور بچوں کو ایسے اوقات میں باہر نہ جانے دو۔کیونکہ وہ وقت شیاطین کے زور کا ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق جو کہ آج سے تیرہ سو برس پیشتر ایک اُمّی بیابانِ عرب کے ریگستانوں کے رہنے والے کے منہ سے نکلا تھا آج اس روشنی اور علمی ترقی کے زمانہ میں بھی نہایت بار یک در بار یک محنتوں اور کوششوں کی تحقیقات کے بعد بھی ہو رہی ہے۔جو کچھ آپ نے آج سے تیرہ سو برس پیشتر فرمایا تھا۔آج بڑی سرزنی اور ہزار کوشش کے بعد کوئی سچا علم یا سائنس اسے جھوٹا نہیں کر سکا۔اس نئی تحقیقات سے جو کچھ ثابت ہوا ہے وہ بھی یہی ہے کہ کل موذی اجرام اندھیرے میں اور خصوصا ابتدا اندھیرے میں جوش مارتے ہیں۔مگر لوگ باعث غفلت ان امور کی قدر نہیں کرتے۔رات کی ظلمت میں عاشق اور معشوق ، قیدی اور قید کننده ، بادشاہ اور فقیر، ظالم اور مظلوم سب ایک رنگ میں ہوتے ہیں اور سب پر غفلت طاری ہوتی ہے۔ادھر صبح ہوئی اور جانور بھی پھڑ پھڑانے لگے۔مرغے بھی آوازیں دینے لگے۔بعض خوش الحان آنیوالی صبح کی خوشی میں اپنی پیاری راگنیاں گانے لگے۔غرض انسان حیوان ، چرند، پرند، سب پر خود بخود ایک قسم کا اثر ہو جاتا ہے اور جوں جوں روشنی زور پکڑتی جاتی ہے۔توں توں سب ہوش میں آتے جاتے ہیں۔گلی ، کوچے، بازار ، دکانیں، جنگل، ویرا نے سب جو کہ رات کو بھیانک اور سنسان پڑے تھے۔ان