حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 511 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 511

حقائق الفرقان ۵۱۱ سُوْرَةُ الْفَلَقِ میں چہل پہل اور رونق شروع ہو جاتی ہے۔گویا یہ بھی ایک قسم کا قیامت اور حشر کا نظارہ ہوتا ہے۔خد تعالی فرماتا ہے کہ فالق الا صباح میں ہوں۔حب : گیہوں، جو ، چاول وغیرہ اناج کے دانوں کو کہتے ہیں۔دیکھو کسان لوگ بھی کس طرح سے اپنے گھروں میں سے نکال کر باہر جنگلوں میں اور زمین میں پھینک آتے ہیں۔وہاں ان کو اندھیرے اور گرمی میں ایک کیڑا لگ جاتا ہے اور دانے کو مٹی کر دیتا ہے اور پھر وہ نشوونما پاتا، پھیلتا پھولتا ہے اور کس طرح ایک ایک دانہ کا ہزار دو ہزار بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک گٹک ( کٹھلی ) کیسی رڈی اور ناکارہ چیز جانی گئی ہے۔لوگ آم کا رس چوس لیتے ہیں۔گٹھلی پھینک دیتے ہیں، عام طور سے غور کر کے دیکھ لو کہ گٹھلی کو ایک رڈی اور بے فائدہ چیز جانا گیا ہے۔مختلف پھلوں میں جو چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے وہ کھائی جاتی ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں فَالِقُ الْحَبِ وَالنَّوَى ( الانعام: ۹۶) اس چیز کو جسے تم لوگ ایک ردی سمجھ کر پھینک دیتے ہو اس سے کیسے کیسے درخت پیدا کرتا ہوں کہ انسان، حیوان ، چرند، پرندسب اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ان کے سائے میں آرام پاتے ہیں۔ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔میوے، شربت، غذا ئیں، دوائیں اور مقوی اشیاء خوردنی ان سے مہیا ہوتی ہیں۔ان کے پتوں اور ان کی لکڑی سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو۔گٹھلی کیسی ایک حقیر اور ذلیل چیز ہوتی ہے مگر جب وہ خدائی تصرف میں آ کر خدا کی ربوبیت کے نیچے آجاتی ہے تو اس سے کیا کا کیا بن جاتا ہے۔غرض اس چھوٹی سی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ فلق کے نیچے بار یک در بار یک حکمتیں رکھی ہیں اور انسان کو ترقی کی راہ بتائی ہے کہ دیکھو جب کوئی چیز میرے قبضہ قدرت اور ربوبیت کے ماتحت آ جاتی ہے تو پھر وہ کس طرح ادنی اور ارذل حالت سے اعلیٰ اور اعلیٰ بن جاتی ہے۔پس انسان کو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو مد نظر رکھ کر اور اس کی کامل قدرت کا یقین کر کے اور اس کے اسماء اور صفات کا ملہ کو پیش نظر رکھ کر اس سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے بڑھا تا اور ترقی دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ ایک نہایت مشکل امر کے واسطے اس دعا سے کام لینے سے کامیابی نصیب ہوئی لے دانے اور گٹھلی کا چیرنے والا ہوں۔