حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 506 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 506

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ افراتفری پڑی تو میں نے سنا ہوا تھا کہ بادشاہ اپنے پاس اس قسم کا ایک مختصر صندوقچہ رکھا کرتے ہیں کہ وقت ضرورت کام آوے۔تو میں سب سے پہلے قلعہ میں کودا اور یہ صندوقچہ لے بھاگا۔رئیس کو یقین آ گیا کہ واقعی یہی بات ہے مگر اس شخص کے ساتھ کہیں دھوکہ کیا گیا ہے۔اس نے پوچھا تو پھر سارا ماجرا بیان کرو کہ یہاں آنے تک اور کیا کیا باتیں پیش آئیں۔تو اس پر اُس شخص نے بیان کیا کہ رستے میں ایک اور شخص بھی میرا ہم سفر ہوا۔اور اس کے پاس بھی ایک صندوق تھا اور وہ یہی تھا۔اثنائے راہ میں وہ گاہ گاہ مجھے کھول کر اپنا صندوقچہ دکھایا بھی کرتا تھا اور ذکر کرتا تھا کہ میں نے بھی دلی کی افراتفری میں حاصل کیا ہے مگر چونکہ اس کا صندوقچہ میرے سے عمدہ تھا اور اس کا مال بھی میرے مال سے اچھا تھا۔اور پھر وہ گاہ گاہ میرے حوالہ کر کے چلا بھی جاتا تھا اور میرا اعتبار کرتا تھا۔میں اس کا اعتبار نہ کرتا اور نہ ہی صند و قیچہ اسے کھول کر بتا تا۔آخر ہوتے ہوتے مجھے اس کا صندوقچہ پسند آیا۔میں نے موقع پا کر اپنا تو پڑا رہنے دیا اور اس کا صندوقچہ لے بھاگا۔جو میرے خیال میں میرے والے بکس سے عمدہ اور عمدہ مال والا تھا۔اور یہ وہی صندوقچہ ہے جو میں نے اس شخص کا حاصل کیا۔اور ا پنا اس کے واسطے چھوڑا۔یہ سارا واقعہ سننے کے بعد اس رئیس نے اس سے کہا کہ اب وہ ہزار روپیہ تو ہم تمہیں دے چکے اور وہ تمہاری محنت کا پھل تھا جو تمہیں مل گیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ معمولی جھاڑ فانوس کے ٹکڑے ہیں۔چاہو ان کو رکھو اور چاہو پھینک دو۔یہ کسی کام کے نہیں ہیں۔اور روشنی کے داروغہ کو بلوا کر اُسے ویسے ہزاروں ٹکڑے بتادے۔یہ دیکھ کر اس بیچارے کی آنکھیں کھلیں اور اپنے کئے پر پچھتا یا۔رئیس نے کہا کہ خدارحیم کریم ہے۔اس نے تمہاری محنت بالکل ضائع بھی نہ کی اور سزا بھی دیدی کہ تم نے چالا کی سے عمدہ مال حاصل کرنا چاہا تھا۔الٹا اس حرص سے ایک گناہ بھی کیا اور اصل مال بھی بر باد کیا۔اُس کا جو حال ہوا ہو گا۔اس کا ہمیں علم نہیں۔غرض انسان چاہتا ہے کہ میں چالا کی اور دھوکہ سے کامیاب ہو جاؤں۔مگر خدا اس کو عین اسی رنگ میں سزا دیتا ہے اور نا کام کرتا ہے۔جس رنگ میں خدا کو ناراض کر کے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔یہ قصہ کہانی نہیں بلکہ ایک واقعہ کا بیان کیا گیا۔اور عقلمند اس سے عبرت پکڑتے ہیں۔میں نے یہ ایک