حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 507
حقائق الفرقان ۵۰۷ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ بات کہی ہے۔تم اس سے اصل حقیقت کی طرف چلے جاؤ۔الله الصمد: حقیقت میں وہی محتاج الیہ ہے۔لم يلد : اس کا کوئی بچہ نہیں کیونکہ وہ صمد ہے اور بچہ لینے کے واسطے بیوی کی حاجت ہوتی ہے۔پس وہ لم یلد ہے۔کیونکہ وہ صمد ہے۔خدا کا ولد ماننے میں نہ تو خدا کی صفت صمد ہی رہتی ہے اور نہ صفت احد ہی قائم رہ سکتی ہے۔کیونکہ بچے کے واسطے بیوی کی حاجت لا زمی ہے۔اور پھر بیوی اُسی جنس اور کف کی چاہیے۔تو احد بھی نہ رہا۔غرض یہ بالکل سچ ہے کہ لم یلد ہے۔وہ ذات پاک۔وَلَمْ يُولَدُ : اور وہ خود بھی کسی کا بیٹا نہیں۔کیونکہ اس میں بھی والدین کی احتیاج لا زمی اور کف ضروری ہے۔پس وہ اَحَدٌ ہے۔صَمَد ہے۔لَم يَلِدُ ہے اور لَمْ يُولَدُ اور لَمْ يَكُن لَّهُ كفوا احد ذات ہے۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں اور درد دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ اللهُ الصَّمَدُ ہے اسی کو اپنا محتاج الیہ بنائے رکھو۔کھانے پینے ، پہننے، عزت اکرام، صحت، عمر، علم ، بیوی بچے اور ان کی تمام ضروریات کے واسطے اُسی کی طرف جھکو۔میں اللہ کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب انسان خدا کو اپنا محتاج الیہ یقین کر لیتا ہے اور اس کا کامل ایمان ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی انسان کو کسی انسان کا محتاج نہیں کرتا۔میں اپنا ہر روزہ تجربہ بیان کرتا ہوں کہ اللہ صمد ہے۔اُسی پر ناز کرو۔خدا کو چھوڑ کر اگر مخلوق پر بھروسہ کرو گے تو بجز ہلاکت کچھ حاصل نہ ہوگا۔میں نصیحت کے طور پر تم کو یہ باتیں در ددل سے اور سچی تڑپ سے کہتا ہوں کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور ہر ایک ذرہ اس کے اختیار اور تصرف میں ہے۔لَمْ يَكن له كفوا احد : کوئی رسول ہو۔خواہ نبی ولی ہو یا کوئی غوث و قطب۔کوئی بھی اس کے لگے کا نہیں۔کوئی بھی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔سب اسی کے محتاج ہیں اور اسی کے نور سے روشنی حاصل کر نیوالے ہیں اور اسی سے فیض پا کر دنیا کو پہنچاتے رہتے ہیں۔وہی ان سب کے کمال وفضل اور حسن و احسان کے انوار کا منبع اصلی ہے۔پس جب ایسا خدا موجود ہے۔تو پھر ایک مومن انسان کو کیا