حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 464
حقائق الفرقان ۴۶۴ سُورَةُ النَّصْرِ نازل ہونے پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی تھی کہ آپ کی عمر حضرت عیسی کی عمر سے نصف ہے اور حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس سورہ شریف کے وقت اس امر کے اشارہ کو سمجھ لیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت وفات قریب آ گیا ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ میں امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ابھی بچہ ہی تھا۔مگر جب کوئی مجلس شورای قائم ہوتی اور بڑے بڑے اصحاب جو اہلِ بدر تھے جمع کئے جاتے تو حضرت عمر مجھے بھی اس مجلس میں بلاتے۔میری عمر کے لڑکے کا ایسی اہم مجلس میں بلایا جانا شائد کسی کو نا پسند ہوا ہو گا کہ کسی نے کہا کہ یہلڑ کا ہمارے بیٹوں کی عمر کے برابر ہے اور ہمارے ساتھ مجلس شوری میں بیٹھتا ہے۔مگر حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ تم کیا جانتے ہو کہ یہ کون ہے۔اس کے بعد جب پھر ایسا ہی کسی مجلس کا موقع ہوا اور سب بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے مجھے بھی بلایا اور میں دل میں سمجھ گیا کہ آج کچھ بات ضرور ہے چنانچہ جب سب جمع ہو گئے تو حضرت عمر نے اول دوسروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سورۃ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ کے متعلق تم کیا کہتے ہو۔بعض نے کہا کہ اس میں ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ حمد واستغفار کریں۔بعض نے کہا کہ اس میں فتح و نصرت ہم کو دی گئی ہے۔اور بعض خاموش رہے۔تب حضرت عمرؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو۔کیا یہی صحیح ہے۔میں نے کہا نہیں۔بلکہ میں یہ جانتا ہوں کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جتلایا گیا ہے کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔اب حمد و استغفار کرو۔حضرت عمر نے فرمایا مجھے بھی یہی معلوم ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس سورہ شریف کے نزول کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ دعا بہت پڑھتے تھے۔سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَآتُوْبُ اِلَیهِ۔اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے بیٹھتے ، آتے جاتے ، ہر وقت سُبحان اللہ و بحمدہ کہتے اور فرماتے کہ مجھے ایسا کہنے کے واسطے حکم دیا گیا ہے۔اور اس سورۃ کو پڑھتے۔