حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 465 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 465

حقائق الفرقان سُوْرَةُ النَّصْرِ غرض بہت سی روایات سے یہ امر ظاہر ہے کہ اس سورہ شریف کے نزول کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعض احباب نے اس بات کو بخوبی سمجھ لیا تھا کہ چونکہ تبلیغ کا کام اپنے کمال کو پہنچ چکا ہے اور فتح و نصرت کا وقت آ گیا ہے۔اور اب قو میں فوج در فوج داخل ہونے والی ہیں۔تو اب وہ وقت آ گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر واصل باللہ ہو جاویں۔افواج : جس سال یہ سورۃ نازل ہوئی۔اس سال بہت سی قو میں فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئیں۔کیونکہ مکہ فتح ہو گیا تھا اور کفار کے سرغنہ سب ہلاک ہو چکے تھے۔اور کوئی رکاوٹ اب باقی نہ رہی تھی اور اسلام کی سچی اور راحت بخش تعلیم نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ہوا تھا۔صرف چند شریر لوگوں کی شرارت کا خوف درمیان میں تھا۔کیونکہ وہ زمانہ امن کا نہ تھا۔اور ہر ایک کو اپنی جان اور مال کا خطرہ رہتا تھا۔بالخصوص غرباء امراء کے بہت ہی زیر اثر تھے۔اور ان سے خوف کھاتے تھے۔جب بڑے بڑے کفار ہلاک ہو گئے اور ان کے زور اور طاقت کی چار دیواری خاک میں مل گئی۔تو لوگوں کے دل سیلاب کی طرح اسلام کی طرف جھکے اور قبائل کے قبائل یک دفعہ اسلام میں داخل ہو گئے۔چنانچہ بنی اسد اور قریظہ اور بنی حرہ اور بنی التبکا اور بنی الکنانہ اور بنی ہلال اور بلخاء اور نجب اور دارم اور دوسرے قبائل تمیم اور قبائل عبد القیس اور بنی طی اور اہل یمن و شام و عراق وغیرہ کے اطراف واکناف سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور بہت جلد تمام جزیرہ نمائے عرب اسلام میں داخل ہو گیا۔اور جملہ قبائل عرب میں کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا۔جس نے اظہار اسلام نہ کیا ہو۔اہل یمن۔ایک روایت میں ہے کہ اس سورہ شریف میں الناس سے مراد اہلِ یمن ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللهُ أَكْبَرُ جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ قَوْمُ رَقِيْقَةٌ قُلُوْبُهُمْ - الْإِيْمَانُ يمَانٍ وَالفِقْهُ يَمَانِ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةً وَ قَالَ أَجِدُ نَفَس رَبِّكُمْ مِن قِبَلِ الْيَمَنِ الله اكبر -