حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 463

حقائق الفرقان ۴۶۳ سُوْرَةُ النَّصْرِ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہی خبر مل گئی کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بمعہ عمار اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ اس کو پکڑ کر اس سے خط لے لیں۔اور اگر نہ دے تو اسے ماریں۔چنانچہ اس جماعت نے اس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خطا نہیں۔جس پر حضرت علی نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحی الہی کے خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آ گیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاطب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا۔اس نے کہا مجھے خدا کی قسم ہے کہ جب سے میں ایمان لایا ہوں۔کبھی کا فرنہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکہ میں میرے قبائل کا کوئی حامی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ کفار میرے قبائل کو دکھ نہ دیں۔حضرت عمرؓ نے چاہا کہ حاطب کو قتل کر دیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کرو جو چاہو۔میں نے تمہیں بخش دیا۔اس سورہ شریف کی تفسیر میں کئی ایک روایات اس قسم کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعض صحابہ کرام نے اس سورۃ کے نزول کوسن کر یقین کیا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اس دنیا پر جو تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔اور وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کے ساتھ وصالِ دائمی حاصل فرماویں۔چنانچہ ایک حدیث جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے رونے اور پھر ہنسنے کا ذکر ہے گزشتہ پر چوں میں بیان کی جا چکی ہے۔رونے کی وجہ یہ تھی کہ بیوی فاطمہ کو آنحضرت نے بتلایا کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے۔پھر ہنسنے کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بتلایا کہ میرے بعد میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملنے والی تو ہے چنانچہ آنحضرت کی وفات کے صرف چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ نے وفات پائی تھی۔ایک روایت سے جو حضرت ام حبیبہ سے ہے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس سورہ شریف کے