حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 462

حقائق الفرقان ۴۶۲ سُورَةُ النَّصْرِ انتحال سابق عہد و پیمان کو رہنے دو۔آخر ابوسفیان واپس مکے کو چلا گیا۔ابوسفیان کے جانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفیر مکہ کو بھیجا اور حسب دستور ملک بلکہ حسب قانون اخلاق کہلا بھیجا کہ یا تو خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیدو۔یا بنو بکر کی حمایت اور جانبداری سے الگ ہو جاؤ یا حدیبیہ کی صلح کا عہد جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے اسے پھیر دو۔اہل مکہ نے خیال کیا کہ اہلِ اسلام ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور اس نصرت الہی اور امدا د خداوندی کو بھول گئے جو اسلام ہاں سچے اسلام کی ہمیشہ حامی و مددگار ہے۔انہوں نے صلح کا عہد پھیر دیا۔قطع عہد اور ان کی بے ایمانی اور خزاعہ کا بدلہ لینے کے لئے آپ نے مکہ پر چڑھائی کی چنانچہ مکہ فتح ہوا اور اس حملے میں وہ نرمی اور اخلاقی شریعت کی آپ نے پابندی کی جس کی نظیر دنیا میں مفقود ہے۔فرمایا جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان۔جو کوئی مسجد میں چلا جائے اسے امان۔غرض مطابق پیشگوئی مکہ فتح ہوا اور کچھ بڑی خون ریزی نہ ہوئی۔اور کوئی کافر بجبر مسلمان نہ کیا گیا۔اس جگہ سارہ والے واقعہ کا بیان کر دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔اور وہ اس طرح سے ہے کہ سارہ نام ایک عورت جو کہ مکہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیر سایہ پرورش پا یا کرتی تھی۔ان ایام میں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی۔آپ کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئی ہے۔اس نے جواب دیا کہ نہیں۔میں مسلمان ہو کر نہیں آئی۔بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپ کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے۔اس واسطے میں آپ کے پاس آئی ہوں تا کہ مجھے کچھ مالی امداد مل جائے۔اس پر آنحضرت نے بعض لوگوں کو فرمایا۔اور انہوں نے اس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا۔جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو خاطب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا اس کو دش اور ہم دیئے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں۔یہ خط اہلِ مکہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطب نے اہل مکہ کو خبر کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے۔تم ہوشیار ہو جاؤ۔وہ