حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 461 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 461

حقائق الفرقان ۴۶۱ سُوْرَةُ النَّصْرِ قوم کو نچلا بیٹھنا محال ہو گیا۔لگے کوئی بہانہ لڑائی کا تلاش کرنے۔نوفل بن معاویہ بن نفاثہ الدیلی بنو بکر میں سے ایک نامورسپاہی تھا۔اس نے خزاعہ قوم پر شبخون مارا۔خزاعہ کے لوگ اس وقت بے خوف و خطر و تیر نام چشمے پر غافل پڑے تھے۔نوفل کے حملے سے چونک اٹھے اور لڑائی شروع ہو گئی۔وہاں کفار مکہ نے پہلے تو ان کی امداد ہتھیاروں سے کی اور جب اندھیرا ہو گیا تو بنو بکر کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب بنوبکر کو اہلِ مکہ کی مدد ہو گئی تو خزاعہ قوم کمزور ہوگئی اور وہ بدیل بن ورقہ خزاعی اور رافع کے گھر میں پناہ گزین ہوئے۔مگر خزاعہ بیچارے صبح تک بہت مارے گئے۔صبح کے ہوتے ہی اپنی تباہ حالت کو دیکھ کر وہ بھاگ گئے اور انہوں نے اپنے مامن کو پہنچ کر عمر و بن سالم خزاعی کو چالیس آدمی کے ساتھ مدینہ کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں روانہ کیا۔عمرو بن سالم نے عرب کے طریق و رواج کے مطابق اشعار میں اپنا حال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔خزاعہ صلح نامہ کے مطابق اسلامیوں کی طرفدار قوم تھی اور تمام کفار مکہ کا ان کے برخلاف سازش کرنا اور ان کو اس طرح سے قتل کرنا دراصل اسی سبب سے تھا۔ان واقعات اور سچے اقوال کو سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔نُصِرْتَ يَا عَمْرَو بْنَ سَالِمٍ۔ادھر کفار مکہ کو اپنی کرتوت کا (جیسے ہر ایک گناہ کا نتیجہ افسوس ہوتا ہے ) افسوس ہوا اور پشیمان ہوئے اور ابوسفیان اپنے رئیس کو اس بد افعالی کے ثمرات سے بچ رہنے کی تدابیر کے واسطے مدینہ روانہ کیا۔ابوسفیان کو یقین تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری اس عہد شکنی کی اب تک خبر نہیں۔اس خیال پر اس نے اپنے دل میں ایک چالا کی کی بات سوچی اور آنحضرت سے کہا کہ صلح حدیبیہ، کے وقت میں موجود نہ تھا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ عہد سابق کی تجدید کریں۔اس عہد نامہ کی تاریخ آج سے شروع ہو اور صلح کی مدت بڑھادی جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بدعہد یوں کو بار بار دیکھ چکے تھے اور خزاعہ کے مقابلہ میں بنو بکر کی امداد خلاف عہد حدیبیہ کی خبر عمرو بن سالم کے ذریعہ پہنچ چکی تھی۔آپ نے ابوسفیان کو جواب دیا کہ کیا تم نے کوئی عہد شکنی کی ہے۔جو تم عہد کی تجدید چاہتے ہو۔ابوسفیان نے کہا۔معاذ اللہ ایسا نہ ہو۔کیا ہم ایسے ہیں کہ عہد توڑ ڈالیں گے؟ تب آپ نے فرمایا