حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 460
حقائق الفرقان سُوْرَةُ النَّصْرِ قربان کرنے کا صدق دل سے اقرار کیا۔اتنے میں حضرت عثمان چند کفار کے ساتھ جو صلح کی شرائط کا فیصلہ کرنے آئے تھے پہنچ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کفار کی شرارتوں کے اور فساد کی نیتوں اور سخت شرائط پیش کرنے کے انہیں کی پیش کردہ سب باتیں مان کر صلح کر لی۔جواشی آدمی کفار کے حملہ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔وہ بھی چھوڑ دیئے اور ایسی شرطیں مان لیں جس سے کفار کا بڑا غلبہ اور رعب بظاہر معلوم ہوتا تھا۔اور مسلمان بہت کمزور اور نیچے دکھائی دیتے تھے۔چنانچہ ایک شرط ی تھی کہ اس سال بغیر زیارت کعبہ واپس چلے جائیں۔پھر یہ کہ دوسرے سال آویں۔دو تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں اور مسلمانوں کے ہتھیار بند ہوں۔پھر ایک شرط یہ بھی کی تھی کہ اگر کوئی مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ میں چلا آئے تو اہل مکہ کو واپس کیا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص مدینہ سے بھاگ کر مکہ میں آجاوے تو اہلِ مکہ واپس نہ دیں گے۔ایک شرط یہ بھی تھی کہ اہل مکہ میں سے جس قوم کی مرضی ہو۔اس وقت مسلمانوں کی طرف ہو جائے اور جس کی مرضی ہو اہل مکہ کے ساتھ رہے اور آئندہ اس کے مطابق قوموں کی باہمی تقسیم رہے۔چنانچہ ایک قبیلہ جس کا نام وائل تھا۔قریش کے عقد و عہد میں ہوا۔اور خزاعہ اسلامیوں کے طرفدار بن گئے۔ان شرائط کے بعد پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بدوں ادائے رسم حج مدینہ کو واپس چلے آئے اور اسی مقام حدیبیہ پر قربانی ذبح کر دی۔اس صلح کا نام صلح حدیبیہ ہوا۔حدیبیہ سے واپس ہوتے وقت ہو سورۃ فتح نازل ہوئی۔جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ کو تشریف فرما ہوئے تو کچھ عرصہ کے بعد کفار مکہ نے عہد و پیمان کو توڑ دیا۔مکہ کے قبائل میں سے بنو بکر اس صلح کے شرائط کے مطابق قریش کے عقد و عہد میں ہوا تھا اور خزاعہ اسلامیوں کے طرفدار بن گئے تھے۔بنو بکر اور خزاعہ میں باہم مدت سے جنگ و جدال چلا آتا تھا۔اس وقت اسلام کے پھیلنے اور اسلامیوں کے مقابلہ کے نئے شغل نے ان دونوں قوموں کو باہمی جنگ کرنے سے روک رکھا ہوا تھا۔اب جبکہ اہل مکہ اور اہل اسلام کے درمیان صلح ہوگئی۔تو اس جنگجو