حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 459 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 459

حقائق الفرقان ۴۵۹ سُوْرَةُ النَّصْرِ یقین کر لیتا ہے کہ اب مجھے اس محل کے تیار کرنے کے تمام سامان مہیا ہو جائیں گے اور کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور میں کامیاب ہو جاؤں گا۔اور اس یقین کو ساتھ لے کر وہ کام شروع کر دیتا ہے۔اور اس کے واسطے تمام اسباب بامراد ہونے کے بنتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح ایک مامور من اللہ خدا کے حکم پر پورا یقین اور ایمان رکھ کر اس کو پورا کرنے کے درپے ہو جاتا ہے۔اس کا خود پیشگوئی کے پورا کرنے میں مصروف ہو جانا اس کے اعلیٰ ایمان اور یقین اور صداقت کی ایک بین دلیل ہوتی ہے۔اگر اسے اس الہام کی سچائی پر یقین نہ ہوتا اور اس میں کچھ وہم اور وسوسہ ہوتا تو وہ ہرگز اس کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔کسی کو اللہ تعالیٰ فرمادے کہ تجھے بچہ دیویں گے اور تیری نسل سے ہو گا تو کیا وہ شکر نہ کرے۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عازم بیت اللہ شریف ہوئے لیکن جب آپ مقام حدیبیہ پر پہنچے جو مکہ سے نو کوس کے فاصلہ پر ہے۔تو آپ کو معلوم ہوا کہ کفار مکہ جنگ کے لئے آمادہ ہیں اور آپ کو زیارت کعبہ سے روکتے ہیں۔آپ کی عادت تھی کہ باوجود مشرکین کی سختی کے ہمیشہ ان پر نرمی کرتے تھے۔اور کبھی کسی معاملہ میں جس میں کسی کو ضرر ہو پیش دستی نہ فرماتے تھے۔آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بمعہ دو اور اصحاب کے اہلِ مکہ کی طرف بھیجا کہ میں جنگ کے واسطے نہیں آیا۔صرف زیارت کعبہ کے لئے آیا ہوں اور بعد زیارت کعبہ واپس مدینہ منورہ کو چلا جاؤں گا۔حضرت عثمان جب کفار کے پاس پہنچے تو انہوں نے حضرت عثمان کو کہا کہ تم کعبہ کا طواف کرنا چاہتے ہو تو کر لو اور واپس چلے جاؤ۔انہوں نے جواب دیا۔میں اکیلا طواف نہیں کروں گا۔جب حضرت رسول کریم کریں گے تو میں بھی کروں گا۔اس قسم کی گفتگو میں قریش نے روک رکھا اور یہ خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان کو کفار مکہ نے قتل کر دیا اور ممکن ہے کہ ان کی نیت قتل کر دینے کی ہو۔کیونکہ اسی وقت اپنی کفار مسلمانوں پر آ کر شب خون کرنے لگے مگر گرفتار ہو گئے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی اس شرارت اور فساد کی خبر ملی تو آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ایک کیکر کے درخت کے نیچے ان سے بیعت لی۔سب نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کے