حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 444
حقائق الفرقان ۴ ۴ ۴ سُورَة الْكَافِرُونَ کی طرز تحریر میں ایک خاص بات مجھے نظر آئی اور وہ یہ ہے کہ اس میں عبدُونَ کا لفظ دو جگہ اس طرح آیا ہے کہ ع کے اوپر کھڑا الف لکھا گیا ہے مگر تیسری جگہ عابد کا لفظ ع کے بعد الف کے ساتھ آیا ہے۔حالانکہ دونوں الفاظ تمام تحریر میں ایک ہی طرح آ سکتے ہیں۔لیکن میں نے بہت سے مختلف چھاپوں کے قرآن شریف کھول کر دیکھے اور سب میں مذکورہ بالاطر زتحریر پایا۔۔۔۔قرآن شریف کی حفاظت کے واسطے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ جب سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن شریف لکھا گیا اور جیسا کہ لکھا گیا۔اس میں کوئی تغیر وتبدل نہ ہوا اور نہ ہونے کی کوئی گنجائش تھی۔برخلاف اس کے ہم انجیل اور تورات کو دیکھتے ہیں کہ اول تو ان کی اصلیت کا کوئی پتہ ہی نہیں ملتا کہ اصل نسخے کیسے تھے۔اور کہاں غائب ہوئے۔اور جو کچھ نقلی یا فرضی کتابیں موجود ہیں۔ان کے متعلق بھی آج تک کمیٹیاں ہو رہی ہیں۔جوان امور کی تحقیقات کرتی ہیں کہ ان کتابوں میں سے کونسی عبارتیں ہنوز نکال دینے کے قابل ہیں۔جس قدر کتا ہیں اس وقت دنیا میں الہامی مانی گئی ہیں۔ان میں سے ایک بھی اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔سوائے قرآن شریف کے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے سوا اور کسی کتاب کی حفاظت کا ذمہ باری تعالیٰ نے نہیں لیا اور اس واسطے دوسری کتابیں عوام کے دستبرد سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔خواص سورة : زید بن ارقم رفعا کہتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات دوسورتیں ساتھ لے کر کی۔اس سے کوئی حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔وہ دوسورتیں کافرون اور قُلْ هُوَ اللهُ احد ہیں۔اس حدیث شریف کا مطلب ظاہر ہے کہ سورہ کافرون میں کفار اور ان کے کفر سے پوری بیزاری اور بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے اور سورۃ اخلاص میں خدا تعالیٰ کی توحید کا پورے طور سے اقرار کیا گیا ہے بدی کا ترک اور نیکی کا حصول۔شیطان سے دوری اور خدا کا قرب۔یہی دو باتیں ہیں جو کسی مذہب کا آخری نتیجہ ہوسکتی ہیں۔جب یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کسی کو حاصل ہو جاویں۔تو وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا۔اور اس کے واسطے کوئی حساب باقی نہیں رہا۔ایک روایت میں ابنِ عمر سے