حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 443
حقائق الفرقان ۴۴۳ سُورَة الْكَافِرُونَ دفعہ نازل ہو کر مثلاً کتاب براہین احمدیہ میں چھپ چکی ہے لیکن جب اس کے پورا ہونے کا وقت قریب آ گیا تو نزول اول کے ہیں پچیس سال بعد پھر وہی الفاظ الہام الہبی میں وارد ہوئے۔دین: جزا وسزا کے معنے میں بھی آتا ہے۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ تم لوگوں نے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کا بدلہ تم کو بہر حال مل کر رہے گا جو طریقہ ہم نے اختیار کر لیا ہے اس کا بدلہ خدا تعالیٰ ہم کو ضرور دے گا۔الْكَفِرُون: اس جگہ اگر چہ اول مخاطب وہی کفار اور ان کے ساتھی تھے۔جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا تھا اور اس وجہ سے اس سورہ شریف کے نزول کے اصل محرک وہی تھے۔لیکن ان کے بعد تمام دنیا کے کفار جو مسلمانوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کریں۔اس سورۃ میں مخاطب ہیں۔قاعدہ ہے کہ زمانہ نزولِ انبیاء میں بعض منکرین ایسے سخت دل ہو جاتے ہیں کہ کوئی نصیحت ان کے واسطے کارگر نہیں ہو سکتی۔اور ہر ایک نشانِ الہی جو دوسروں کے واسطے موجب ازدیاد ایمان ہوتا ہے۔ان کے لئے بجز از دیادِ کفر اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ایسے کفار کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔سَوَاء عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرہ:۷ ) وہ حالتِ کفر میں ایسے غرق ہیں کہ آنیوالے عذابوں سے تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے۔سب برابر ہے۔وہ کبھی ایمان نہیں لاویں گے۔اور فرمایا ہے۔وَ لَيَزِيدَانَ كَثِيرًا مِّنْهُمْ مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا (المائده :۶۵) تیرے رب کی طرف سے جو تجھ پر نازل ہوا۔یہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کو اور بھی بڑھا دے گا۔ایسے کافروں کو کہا گیا ہے کہ ولنا أَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ أَعْمَالُكُمْ (البقرہ :۱۴۰) ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے۔اور ایسے ہی مکذبوں کے متعلق فرمایا۔فَقُلْ لِي عَمَلِی وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيتُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَ أَنَا بَرِى مِمَّا تَعْمَلُونَ (یونس : ۴۲) ان کو کہہ دو کہ میرے عمل میرے لئے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لئے ہیں۔تم میری کار کردگی کا ثواب نہیں پاسکتے اور میں تمہاری کارروائیوں سے بری ہوں۔حفاظت قرآن : اس سورہ شریف کے الفاظ کو اپنے قرآن شریف پر بغور دیکھتے ہوئے اس