حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 445
حقائق الفرقان ۴۴۵ سُورَة الْكَافِرُونَ منقول ہے کہ یہ سورۃ ربع قرآن کے برابر ہے۔کیا معنے یہ قرآن شریف کا چوتھا حصہ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ پاک کے مضامین کا چہارم حصہ کفار اور ان کے کفر سے بیزاری اور خداوند تعالیٰ کی خالص عبادت کے بیان پر مشتمل ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۴ و ۲۱ / نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۷۰ تا ۳۷۵) دیکھو۔حضرت نبی کریم کی ابتدائی تیرہ سالہ مکہ کی زندگی کیسی مشکلات اور مصائب کی زندگی ہے مگر با ایں کہ آپ بالکل تنہا اور کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کی زبان سے اہل مکہ کے بڑے بڑے اکا برقریش اور سردارانِ قوم کو جو اپنے برابر کسی کو دنیا میں سمجھتے ہی نہ تھے۔یوں خطاب کراتا ہے۔قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمزوری کی حالت میں بھی خدائی تائید اور نصرت کی وجہ سے جو آپ کے شامل حال تھی اور اس کامل اور سچے علم کی وجہ سے جو آپ کو خدا کے وعدوں پر تھا۔آپ میں ایسی قوت اور غیرت و حمیت موجود تھی کہ آپ تبلیغ احکام الہی میں ان کے سامنے ہرگز ہرگز ذلیل نہ تھے۔بلکہ آپ کے ساتھ خدا کی خاص نصرت اور حق کا رعب اور جلال ہوا کرتا تھا۔پس اس سے مسلمانوں کو یہ سبق لینا چاہیے کہ حق کے پہنچانے میں ہرگز ہرگز کمزوری نہ دکھائیں اور دینی معاملات میں ایک خاص غیرت اور جوش اور صداقت کے پہنچانے میں سچی حمیت رکھیں۔کا فر کا لفظ عرب کے محاورے میں ایسا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہنا گویا آگ لگا دینا ہے۔وہ لوگ چونکہ اہلِ زبان تھے۔خوب جانتے تھے کہ کسی کی بات کو نہ ماننے والا اس کا کافر ہوتا ہے۔اور ہم چونکہ آپ کی بات نہیں مانتے اس واسطے آپ ہمیں اس رنگ میں خطاب کرتے ہیں۔قرآن شریف میں خود مسلمانوں کی صفت بھی کفر بیان ہوئی ہے جہاں فرمایا ہے کہ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ (البقره: ۲۵۷) معلوم ہو کہ کفر مسلمان کی بھی ایک صفت ہے۔مگر آجکل ہمارے ملک میں غلط سے غلط بلکہ خطر ناک سے خطر ناک استعمال میں آیا ہے۔کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ دست وگریبان ہوا۔اصل میں کافر کا لفظ دل دکھانے کے واسطے نہیں تھا۔بلکہ یہ تو ایک واقعہ کا اظہار و بیان تھا۔وہ