حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 382

حقائق الفرقان ۳۸۲ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ شانِ نزول:۔ایسا ہی شانِ نزول کے متعلق بھی اختلاف ہے۔عطا و جابر کا قول حضرت ابن عباس سے ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے اور دوسرے قول میں ہے کہ یہ سورت نصف اول عاص بن وائل کے حق میں ہے اور نصف ثانی عبداللہ بن ابی بن سلول کے حق میں ہے۔سدی نے کہا ہے کہ ولید بن مغیرہ کے حق میں ہے۔ضحاک نے کہا ہے کہ عمر بن عاید کے حق میں ہے۔ابن جریح نے کہا ہے کہ ابوسفیان کے حق میں ہے یتیم کے جھڑ کنے کے متعلق ابو جہل کا ایک قصہ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کی عادت تھی کہ جب کوئی دولتمند مکہ میں قریب المرگ ہوتا تو اس کے پاس جا کر کہتا کہ تیرے بال بچے تیرے بعد اور وارثوں کے سبب خراب حال ہو جائیں گے بہتر ہے کہ تو اپنا مال متاع میرے سپرد کر دے۔اس طرح یتیموں کا مال لے لیتا اور پھر جب وہ مرجاتا تو ان یتیم بچوں کو صاف جواب دے دیتا اور جھڑک کر نکال دیتا۔ذکر ہے کہ ایک یتیم جس کے ساتھ اس نے ایسا ہی سلوک کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا تمام قصہ عرض کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ یتیموں پر بہت رحم کرتے تھے اس کی خاطر ابو جہل کے پاس چل کر گئے اور اسے سمجھایا اور یتیم کی سفارش کی مگر وہ نابکار اور بھی افروختہ ہوا۔اور یتیم کو مارنے اٹھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تو ہین کی۔جس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ایسا ہی بعض مفسرین نے ایک روایت یہ بھی لکھی ہے کہ ایک دن ابوسفیان یا ولید بن مغیرہ نے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ہنوز اس کے حصے ہی کر رہا تھا کہ ایک یتیم نے آ کر سوال کیا۔اس نے لاٹھی سے اس یتیم کو مارا۔تب حق تعالیٰ نے اس کی مذمت میں یہ آیتیں نازل فرمائیں۔یہ بھی حکمت الہی ہے کہ انجیل اور توریت کی طرح قرآن شریف میں ہر آیت کے ساتھ اس کا شانِ نزول درج نہیں۔ابتدا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کے درمیان کبھی شانِ نزول یا مقام نزول ساتھ ساتھ نہیں لکھائے۔جیسا کہ توریت انجیل میں اور دیگر صحف انبیاء میں آتا ہے کہ حضرت موسی یا عیسی یا کوئی اور نبی پھر اس مقام پر گیا اور اس آدمی کو ملا اور اس وقت اس پر یہ وحی نازل ہوئی یا خود اس نے یہ کلام کیا۔برخلاف اس کے قرآن شریف اول سے خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور