حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 381
حقائق الفرقان ۳۸۱ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ کہتے ہیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مانگنے پر دے دیتے ہیں۔جیسا کہ دیچی اور ڈول اور کلہاڑی اور ایسی اشیاء۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۳ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۵۳٬۳۵۲) سورت کے نام:۔اس سورۃ شریف کو اس کے پہلے لفظ کے لحاظ سے سورہ آر بیت بھی کہتے ہیں جیسا کہ اور بھی بعض سورتوں کے نام ان کے پہلے الفاظ کے لحاظ سے ہیں۔مثلاً۔والصفت الرّحمن النّجم۔الطور وغيره - دوسرا نام اس سورۃ شریف کا الدین ہے کیونکہ اس میں جزا وسزا کے ضروری اور اہم مسئلہ کی تکذیب کرنے والے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے۔تیسرا نام اس سورہ شریف کا سورۃ الماعون ہے اور زیادہ تر مشہور یہی نام ہے۔مَاعُون کے معنے مفصل آگے بیان ہوتے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ چوتھا نام اس سورہ شریف کا سورۃ الیتیم ہے۔کیونکہ اس میں یتیم کے ساتھ محبت کرنے اور اس پر دست شفقت رکھنے کی طرف خاص طور پر ترغیب دی گئی ہے۔مقام نزول:۔بعض روایات کے مطابق یہ سورہ شریف مکہ میں نازل ہوئی تھی۔اور بعض کے نزد یک نصف اول مکہ میں نازل ہوا تھا اور نصف دوم مدینہ میں نازل ہوا تھا اور چونکہ نصف آخر میں منافقین کی طرف اشارہ ہے اور مکہ معظمہ میں بہ سبب تکالیف اور مصائب کے ہنوز صرف مخلص لوگ شامل تھے۔اور ایسے وقت میں ممکن نہ تھا کہ کوئی منافق کمزور شامل ہو سکے۔اس واسطے قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ نصف آخر مدنی ہو۔لیکن چونکہ اکثر آیات میں جو مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھیں آئندہ حالات کی بھی پیشگوئیاں ہیں۔اس لحاظ سے یہ قیاس بالکل صحیح نہیں ٹھہرتا ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ بعض آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ ایک بار بلکہ کئی بار ( نازل ) ہوئی ہوں۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود کے تازہ حالات میں دیکھتے ہیں کہ ایک پیشگوئی وحی الہی میں ایک دفعہ نازل ہو کر مثلاً کتاب براہین احمدیہ میں چھپ چکی ہے۔لیکن جب اس کے پورا ہونے کا وقت آ گیا تو نزول اول کے ہیں پچیس سال بعد پھر وہی الہام الہی کلام میں دوبارہ نازل ہوئے۔