حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 383

حقائق الفرقان ۳۸۳ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ ایک سمندر کی طرح اس کی روانی ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔بشر کے کلام کا اس میں کوئی حصہ نہیں اور چونکہ یہ کلام نہ کسی خاص مکان کے واسطے تھا اور نہ کسی خاص قوم کے واسطے جیسا کہ توریت انجیل وغیرہ دیگر کتب سماوی ہیں۔اس واسطے اس میں شانِ نزول ساتھ ساتھ نہ لکھے گئے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے یہی چاہا کہ اس بات کی حفاظت بھی پورے طور سے نہ ہوئی کہ یہ آیتیں کب اور کس کے حق میں اول نازل ہوئی تھیں یہاں تک کہ ترتیب نزولی بھی خدا تعالیٰ نے قائم نہ رہنے دی قرآن شریف کی ترتیب اور اس کے درمیان شان نزول اور مقامِ نزول کا نہ لکھا جانا خود اس بات کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے کہ یہ کتاب بر خلاف دیگر کتب سماوی کے تمام زمین کے واسطے اور قیامت تک سب زمانوں کے واسطے اور سب قوموں کے واسطے خدا تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔سورہ ایلاف میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو اپنے انعام یاد دلائے ہیں۔اس کے بعد ان کو یہ سمجھایا گیا کہ جب خدا تعالیٰ کے اس قدر فضل تم پر ہوئے ہیں تو اب تمہیں چاہیے کہ ان رذائل اور بدیوں سے بچو۔جن سے خدا ناراض ہوتا ہے۔اور جن کا ذکر اس سورہ ماعون میں کیا گیا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۳ را کتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۵۲تا۳۵۵) -۲- اَرعَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ - ۲۔ترجمہ۔کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے جزا سزا کو۔تفسیر۔ارویت - آیا دیدی؟ کیا دیکھا تو نے۔اس میں بظاہر استفہام ہے اور دراصل مطلب تعجب سے ہے کہ کیا ایسے شخص کو بھی تم نے دیکھا ہے۔اس قسم کے طرز کلام میں ایک زور اور خوبصورتی ہے۔الَّذِی۔جو کہ۔وہ جو۔جوشخص کہ يكذب۔جھٹلاتا ہے۔تکذیب کرتا ہے۔الدین۔جزا و سزا کو کہتا ہے کہ نیکی پر انعام یا بدی کی سزا یہ فرضی باتیں ہیں۔اس دنیا میں انسان زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔اور بس۔پھر کچھ نہیں۔ایسے لوگ اس زمانہ میں بھی پائے جاتے