حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 27

حقائق الفرقان ۲۷ سُوْرَةُ الْجِنِ اس اظہار علی الغیب کی بناء پر رسول کی طرف سے متحد یا نہ دعوی ہوتا ہے۔اور درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے غرض کہ تحدی کرنا اور اس میں پورا اتر نا یہ نبی کا خاصہ ہے۔غیر نبی کو اظہار علی الغیب میں دخل نہیں۔فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا - رصد ، نگہبان ، پہرے دار، فرشتوں کی حفاظت۔سورۃ الشورای میں وحی اور کلام الہی کو تین قسموں پر منقسم کیا ہے۔وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ تُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحَى بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ - (الشوری: ۵۲)۔عوام الناس وحی کا نام سن کر گھبرا اُٹھتے ہیں۔حالانکہ تینوں قسم کو وحی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے وحی کے لفظی معنے صرف اشارہ کے ہیں۔الا وحیا میں عام خوابوں کو بیان فرمایا ہے۔مِنْ وَرَاءِ حِجَاب۔یہ بھی ایک قسم کی وحی ہے۔جو اولیاء اور اہل اللہ کی وحی ہے۔جن کے اکثر مکاشفات وغیرہ تعبیر طلبہ ہوتے ہیں۔جب تک تعبیر کا وقت نہ آوے۔ان پر حجاب ہوتا ہے۔تیسری قسم وحى يُرسلَ رَسُولًا فَيُوحَى بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ۔یہ وحی وحی متلو ہے۔اس کی عبارت بھی اگلے دو قسموں کی وحی سے زیادہ ہیں۔اس میں احکامات اوا مر نواہی ہوتے ہیں۔اس وحی میں کسی قسم کے مغالطے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کلام کی پوری حفاظت کرتا۔ملائکہ کا پہرہ ساتھ ہوتا ہے۔شیاطین کا دخل، قوت فکر یہ وہمیہ، خیالیہ، عادات وطبائع اس میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں کرسکتی۔رصدا کے لفظ میں کلام اور مہبط کلام دونوں کی حفاظت کا بیان ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸/ مارچ ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۲٬۲۹۱) ا اور کسی بشر کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے ( یعنی روبرو ) مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے ( رؤیا و کشف کے ذریعہ سے ) یا کسی رسول و فرشتے کو بھیج دے۔پھر وہ پہنچا دے اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہے۔