حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 359
حقائق الفرقان ۳۵۹ سُوْرَةُ الْفِيْل عیب لگاتی تھی۔اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکہ پر انہوں نے چڑھائی کی۔یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا۔جس نے اسی سال مکہ معظمہ پر چڑھائی کی جبکہ حضرت رحمتہ للعالمین نبی کریم پیدا ہوئے۔جب یہ شخص وادی محصر میں پہنچا۔اس نے عمائد مکہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معز ز آدمی کو بھیجو۔تب اہل مکہ نے عبد المطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔جب عبدالمطلب اس ابرهه نام بادشاہ کے پاس پہنچے۔وہ مدارات سے پیش آیا۔جب عبدالمطلب چلنے لگے اس نے کہا کہ آپ کچھ مانگ لیں۔انہوں نے کہا کہ میری سو اونٹنیاں تمہارے آدمیوں نے پکڑی ہیں۔وہ واپس بھیج دو۔تب اس بادشاہ نے حقارت کی نظر سے عبدالمطلب کو کہا کہ مجھے بڑا تعجب ہے کہ تمہیں اپنی اونٹنیوں کی فکر لگ رہی ہے۔اور ہم تمہارے اس معبد کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔عبد المطلب نے کہا۔کیا ہمارا مولیٰ جو ذرہ ذرہ کا مالک ہے۔جب یہ معبد اسی کے نام کا ہے اور اسی کی طرف منسوب ہے۔وہ اس کی حفاظت نہیں کرے گا؟ اگر وہ اپنے معبد کی خود حفاظت نہیں کرنا چاہتا۔تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔آخر اس بادشاہ کے لشکر میں خطرناک و با پڑی اور چیچک کا مرض جو حبشیوں میں عام طور پر پھیل جاتا ہے ان پر حملہ آور ہوا اور اوپر سے بارش ہوئی۔اور اس وادی میں سیلاب آیا۔بہت سارے لشکری ہلاک ہو گئے اور جیسے عام قاعدہ ہے کہ جب کثرت سے مردے ہو جاتے ہیں۔اور ان کو کوئی جلانے والا اور گاڑنے والا نہیں رہتا تو ان کو پرندے کھاتے ہیں۔اُن موذیوں کو بھی اسی طرح جانوروں نے کھایا۔یہ کوئی پہیلی اور معمانہیں۔تاریخی واقعہ ہے۔پر افسوس تمہاری عقلوں پر !! مکہ معظمہ کی حفاظت ہمیشہ ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی۔کوئی تاریخ دنیا میں ایسی نہیں جو یہ بتا سکے کہ اسلام کے مدعیوں یا ابراہیم کے تعظیم کرنیوالوں کے سوا کوئی اور بھی اس کا مالک ہوا ہو۔یونانی سکندر بگولے کی طرح یونان سے اٹھ کر تمہارے ملک میں پہنچا اور اسے پامال کیا۔اور رچرڈ سارے یورپ کے ساتھ اسلام کی بربادی کو اٹھا اور نیپولین مصر تک پہنچ گیا۔مگر عرب کی فتح سے یہ سب ناکام اور نا مرا در ہے۔اس میں خدا ترسوں کے لئے بڑے نشان ہیں۔پہلا بابل میں ہلاک