حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 358 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 358

حقائق الفرقان ۳۵۸ سُوْرَةُ الْفِيْل پھر سام وید فصل دوم پر پائیک نمبر ۳ میں یوں ہے۔”اے روشن اشاس جب تیرے وقت رجوع کرتے ہیں تو کل چوپائے اور دریاؤں والے حرکت کرتے ہیں اور تیرے گرد باز و والے پرندے آسمان کی تمام حدود سے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔“ عربی میں بھی ایسے محاورات بکثرت ہیں اور انہی معنوں اور استعاروں میں پرندوں کے الفاظ وہاں مستعمل ہوتے ہیں چنانچہ النابغة الذبیانی کا شعر ہے إِذَا مَاغَرًا بِالجَيْشِ حَلَّقَ فَوْقَهُمْ عَصَائِبٌ طَيْرٍ تَهْتَدِى بِعَصَائِبِ جب وہ لشکر لے کر دشمنوں پر چڑھتا تو پرندوں کے غولوں کے غول دشمنوں کے لاشوں کے کھانے کو جمع ہو جاتے ہیں۔ایک مولوی صاحب نے اس موقع پر ایک شعر لطیف لکھا ہے۔وہ ہمارے جواب کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتا ہے۔گو مولوی صاحب نے اس کے معنے کچھ ہی کئے ہوں مگر وہ ہماری وہ ذکر کردہ دلیل کا ہی مثبت ہے اور وہ شعر یہ ہے۔ايْنَ الْمَفَرُّ لِمَنْ عَادَاهُ مِنْ يَدِهِ وَ الْوَحْشُ وَ الطَّيْرُ انْبَاعٌ تُسَائِرُة یہاں طیر سے مراد وہی مردار خور پرندے ہیں اور سباع بھی وہی مردار خور ہیں۔جو فتح مندی کا نشان ہیں۔اسی قسم کے انداز بیان میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اشارہ کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہلاک کئے جاویں گے۔جیسے فرماتا ہے: الَم يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَرْتٍ فِى جَةِ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (النحل :٨٠) کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے۔جنہیں ہم نے آسمان کے جو میں قابو کر رکھا ہے۔ہم ہی نے تو انہیں تھام رکھا ہے ( اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریم کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے ) مومنوں کے لئے ان باتوں میں نشان ہیں۔b یہاں بھی پہلے ایک شریر قوم کا بیان کیا ہے۔جو بڑی نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی۔اور اسلام کو اے ممدوح سے جو دشمنی کرے وہ اس کے ہاتھ سے کہاں بھاگ کر جائے گا۔درندے اور شکاری پرندے اس کے ساتھ ساتھ پیچھے جا رہے ہوتے ہیں۔( مدوح کے ہاتھوں مرنے والوں کی لاشوں کا گوشت کھانے کے لئے )۔