حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 335

حقائق الفرقان ۳۳۵ سُوْرَةُ الْعَصْرِ مَنِ اسْتَوَى يَوْمَاهُ فَهُوَ مَغْبُونٌ یعنی جس کے دو دن برابر رہے۔اور اس نے کوئی ترقی نہ کی یا ان دودنوں میں کوئی کسب خیر نہ کیا وہ گھاٹے میں ہے۔ابو مزینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ جب دو صحابی بھی آپس میں ملاقات کرتے تو تذکیر کے طور پر یہ سورہ شریفہ ایک دوسرے کو سناتے۔نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی فرض نماز نہیں۔سنت الطواف کے سوائے بھی کوئی نفل نماز نہیں۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور شریعت نہیں۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ - ایمان اور عملِ صالحہ کے لئے بعض زمانہ بڑا ہی قابل قدر ہوتا ہے۔قرآنِ شریف میں ایک اور مقام میں فرمایا ہے۔لَا يَسْتَوِى مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قَتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَتَلُوا - (الحديد : ١١) حدیث شریف میں اسی آیت کی تفسیر یوں ہے کہ سابقین اولین میں سے جو اصحاب پہلے پہل ایمان لائے اور انفاق فی سبیل اللہ ایک مٹھی بھر جو کے ساتھ کیا۔بعد میں ایمان لانے والے اور پہاڑ برابر سونا خرچ کر نیوالے ان اگلوں کی برابری نہیں کر سکتے۔وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى ( الحديد : ۱۱) اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے سب کو نیک وعدے دیئے ہیں۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَق کی نسبت بھی حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو حق بات جانتا ہے اور بیان نہیں کرتا وہ گونگا شیطان ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے کو بروز قیامت آگ کی لگام چڑھائی جائے گی۔ایمان، اعمال صالحہ ، وصیت بالحق اور وصیت بالصبر جو اسلام کا نچوڑ ہے۔اس چھوٹی سی سورۃ میں بیان فرما دیا۔اسی لئے صحابہ رضی اللہ عنہم بطور تذکیر ملاقاتوں کے وقت ایک دوسرے کو سنا دیا کرتے۔احباب بھی اس سنتِ صحابہ پر عمل کریں۔ا تم میں سے برابر نہیں ہو سکتا وہ شخص جس نے خرچ کیا ملکہ کی فتح سے پہلے اور دین کے لئے لڑا (اس کے بعد کے خرچ کرنے والے اور لڑنے والے سے ) یہی لوگ درجے میں بڑھے ہوئے ہیں ان سے جنہوں نے خرچ کیا فتح کے بعد اور لڑے۔۲۔اور سب سے اللہ نے وعدہ فرمالیا ہے نیک حالی کا۔