حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 334
۳۳۴ حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْعَصْرِ نرمی سے کہا جاتا تو نتیجہ خطر ناک نہ ہوتا۔اس طرح کہ مکہ مدینہ بیشک قبولیتِ دعا کے مقام ہیں۔پھر کہتا ہوں کہ خدا یہاں بھی ہے۔وہاں بھی ہے۔تم دونوں جگہ دعا مانگو یعنی یہاں بھی دعا ضرور مانگو۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے خسر سے کہا تھا کہ میرے لئے عرفات میں دعا کرنا۔میرے خسر کا بیٹا جو ان کے ہمراہ حج میں موجود تھا۔اب موجود ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہمارے باپ نے عرفات میں دعا مانگی اور میں آمین آمین کہتا جا تا تھا۔مگر انسان سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ان غلطیوں کے دور کرنے کے لئے میں نے کہا تھا کہ میں تین مہینہ میں قرآن شریف پڑھا سکتا ہوں۔بشرطیکہ پانچ سات آدمیوں کی ایک جماعت ہو۔قرآن کے لئے بھی دعا مانگنی چاہیے اور متقی بننا چاہیے۔وَ اتَّقُوا اللهَ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقره: ۲۸۳) جو تقوی اختیار کرتا ہے۔اس کو خدا سکھاتا ہے۔قرآن پڑھو۔سیکھو۔اس کے علم میں ترقی کرو۔اس پر عمل کرو۔قرآن سے تم کو محبت ہو۔وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔حق کے پہنچانے میں کچھ تکلیف ضرور ہوتی ہے۔اس تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے دوسرے کو صبر سکھاؤ اور خود بھی صبر کرو۔یہ سورۃ اگر تم نے سمجھ لی ہے تو دوسروں کو بھی سمجھاؤ اور برکت پر برکت حاصل کرو۔میں چاہتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو۔اس کے ملائکہ سے نبیوں اور رسولوں سے محبت کرو۔اور کسی کی بے ادبی نہ کرو تم کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نعمت عطا کی ہے۔حضرت صاحب کا دنیا میں آنا کوئی معمولی بات نہیں۔تم اس طرح یہاں بیٹھے ہو۔یہ انہیں دعاؤں کا نتیجہ ہے دعا ئیں بہت کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوسروں تک حق پہنچانے کے لئے توفیق دے۔( بدر جلد ۱۲ نمبر ۳۱ تا ۳۳ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۱۳ء صفحه ۳، ۴) وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ - عصر کے معنے مطلقا وقت کے ہیں۔قسم کے طور پر وقت کو اس لئے یا فر مایا کہ اس کی عظمت اس کا مفید ہونا انسان سوچے۔انسان کی عمر کا وقت برف کے تاجر کی طرح ہے کہ ہر لمحہ ہر دقیقہ معرضِ نحسر ان میں پڑا ہوا ہے جس نے چٹ پٹ اس سے فائدہ اٹھالیا۔وہ مزے میں رہا۔عصر کے معنے نچوڑنے کے ہیں۔اس صورت میں وَالْعَصْرِ کے یہ معنے ہیں کہ اسلام سارے ادیان کے حقائق و معارف کا نچوڑ ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ