حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 333 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 333

حقائق الفرقان ۳۳۳ سُوْرَةُ الْعَصْرِ یہ حضرت صاحب کا سچادعویٰ ہے اور اسی پر عمل درآمد تھا۔ایک نکتہ بھی دین اسلام سے علیحدہ ہونا ان کو پسند نہ تھا۔تم خدائے تعالیٰ کی تعظیم کرو۔اس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک کرو مخلوق کا لفظ میں نے بولا ہے۔تم ایسے بنو کہ درختوں، پہاڑوں، جانوروں سب پر تمہارے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ کا فضل نازل ہو۔مخلوق الہی پر شفقت کرو۔انسان پر جب تباہی آتی ہے۔تو اس کی وجہ سے سب پر تباہی نازل ہوتی ہے۔ع از زنا رفته وباء اندر جہات لے جناب الہی نے جس طرح حکم دیا اس پر عمل کرو۔گھاٹ پر پاخانہ پھرنے سے ، درختوں کے نیچے اور راستوں پر پاخانہ پھرنے سے ہماری شریعت نے منع فرمایا ہے۔ایمان کے ساتھ اعمال بھی نیک ہوں۔جس میں بگاڑ ہے وہ خدائے تعالیٰ کا پسندیدہ کام نہیں۔پھر ان سچے علوم کو میری زبان سے تم نے کچھ سنا ہے اپنے گزشتہ امام سے سنا ہے۔اور اس کی پاک تصانیف میں دیکھا ہے۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۔پاک تعلیم یعنی حق کو دوسری جگہ پہنچاؤ۔بہت سے لوگ ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔اور ہم سے محبت اور اخلاص چاہتے ہیں مگر ایمان کے حاصل کرنے اور ایمان کے مطابق سنوار کے کام کرنے اور پھر دوسروں تک پہنچانے میں متامل ہیں۔بہت سے لوگ یہاں بھی آئے ہیں اور مجھ سے ملے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ ہم سے بالکل مل جائیں تو ہم آپ کے ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا۔ہماری تعلیم پر عمل کرو گے؟ تو کہتے ہیں۔تعلیم تو ہماری آپ کی ایک ہی ہے۔میں نے کہا جبکہ تم ہماری تعلیم پر عمل کرنے سے جی چراتے ہو تو پھر ہم تم ایک کیسے ہو سکتے ہیں۔یہ سن کر شرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔یہ سب کے سب منافق طبع لوگ ہوتے ہیں۔ایسے منافق بہت ہیں۔یہ سب ہم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔تم حق کو پہنچاؤ اور حق کے پہنچانے میں علم و حکمت اور عاقبت اندیشی سے کام لو۔جو عا قبت اندیشی سے کام نہیں لیتے۔وہ بعض اوقات ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں۔جن سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔کسی شخص نے مجھ کو خط لکھا کہ میں نے ایک شخص سے کہا کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں میرے لئے دُعا کرنا۔ایک احمدی نے سن کر کہا کہ مکہ مدینہ کا کیا کوئی الگ خدا ہے۔اس پر اس شخص کو بڑا ابتلاء پیش آیا۔اگر ل زنا سے تمام جہات میں وباء پھیلی۔