حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 332 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 332

حقائق الفرقان ۳۳۲ سُوْرَةُ الْعَصْرِ ہے کہ اب قرآن شریف جیسی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا رسول جس کے جانشین ہمیشہ ہوتے رہیں گے اب دنیا میں نہ آئے گا۔عصر سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشینوں کا زمانہ ہے۔اب اور کے لئے زمانہ نہیں رہا۔یہاں تک کہ دنیا کا زمانہ ختم ہو۔إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔جس طرح زمانہ گھاٹے میں ہے، اسی طرح انسان۔ایک شخص مجھ سے کہنے لگا کہ زمانہ قدیم ہے۔میں نے کہا جب تم ماں کے پیٹ اور باپ کے نطفہ میں تھے۔وہ وقت اب ہے اور جب تم مرو گے۔وہ زمانہ اب موجود ہے؟ کہا نہیں۔میں نے کہا۔ایک موجود ہے۔وہ معدوم ہے۔وہ موجود ہو گا۔انسان کا جسم ایک برف کی تجارت ہے۔اسی طرح زمانہ ہے۔إِلَّا الَّذِينَ امَنُوا۔گھاٹے میں تو سب ہیں۔مگر ایک شخص مستثنیٰ ہے۔وہ کون؟ ایماندار کہ اس کو گھا ٹ نہیں۔ایمان کیا ہے؟ غیب الغیب ذات پر ایمان رکھنا، اس کو مقدس سمجھنا، اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور یہ یقین کرنا کہ اگر ہم نافرمان ہوں تو اس پاک ذات کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔نماز پڑھنا اور سنوار کر پڑھنا، لغو سے بچنا، زکوۃ دینا، اپنی شرم گاہوں کو محفوظ کرنا، اپنی امانتوں اور عہود کا لحاظ کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک، صفات، افعال، اسماء۔اس کے محامد اور اس کی عبادات میں کسی کو شریک نہ کرنا۔ملائک کی نیک تحریک کو ماننا، انبیاء کی باتوں اور کتابوں کو ماننا۔قرآن کریم تمام انبیاء کی پاک باتوں اور کتابوں کے مجموعہ کا خلاصہ ہے۔فِيهَا كُتُبْ قَيَّمَةٌ ( البينة : ۴) قرآن کریم سب کتابوں کا محافظ ہے۔اس میں دلائل کو اور زیادہ کر دیا ہے۔اس کتاب ( قرآن کریم ) کو اپنا دستورالعمل بنانا، اس کو پڑھنا، سمجھنا، اس پر عمل کرنا، خدائے تعالیٰ سے توفیق مانگنا کہ اس پر خاتمہ ہو، جزاوسزا پر یقین کرنا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم کمالات نبوت و رسالت اور خاتم کمالات انسانیہ یقین کرنا ، دنیا میں جس قدر ہادی ان کے بعد اور آئیں گے، سب انہیں کے فیض سے آئے۔ہمارے مسیح آئے مگر غلام احمد ہو کر آئے۔وہ فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشق محمد محترم گر گفر این بود بخدا سخت کافرم لے اے خدا تعالیٰ کی ذات کے بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں بہت بڑا کا فر ہوں۔