حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 328
حقائق الفرقان ۳۲۸ سُورَةُ الْعَصْرِ میں دیکھتا ہوں کچھ امراء ہیں ، کچھ علماء ، کچھ سجادہ نشین اور کچھ وہ لوگ ہیں جو قوم کے لئے آئندہ کا لجوں میں تعلیم پانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔یہ لوگ اگر سست ہوں تو عوام مخلوقات کا کیا حال ہوسکتا ہے۔اس واسطے میں نے یہ سورۃ عصر پڑھی تھی۔میرا مقصد اس کے پڑھنے سے یہ بتانے کا ہے کہ زمانہ جس طرح کی تیزی سے گزر رہا ہے۔اسی طرح ہماری عمریں بھی گزر رہی ہیں۔یعنی عصر کا آنا فانا گزرنا ہماری عمروں پر اثر ڈال رہا ہے۔اللہ نے اس کا یہ علاج بتایا ہے کہ تمہیں زمانہ کی پرواہ نہ ہو اگر ہمارا حکم مان لو۔وہ حکم یہ ہے کہ مومن بنو اور عمل صالحہ کرو۔دوسروں کو مومن بناؤ اور حق کی وصیت کرو اور پھر حق پہنچانے میں تکالیف سے نہ ڈرو۔یہ وہ سورۃ ہے کہ صحابہ کرام جب باہم ملتے تو اس سورہ کو پڑھ لیا کرتے۔تم اور ہم بھی آج ملے ہیں۔اس لئے اسی سنت کریمہ کے مطابق میں نے بھی اس کو پڑھا ہے اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں ( تم میرے دل کو چیر کر نہیں دیکھ سکتے نہ اس کا لکھا پڑھ سکتے ہو۔البتہ میری زبان کے اقرار سے پوچھے جاؤ گے اور اس سے اگر نفع اٹھاؤ تو تمہارا بھلا ہوگا)۔میں جس ایمان پر قائم ہوں وہ وہی ہے جس کا ذکر میں نے لا إلهَ إِلَّا اللہ میں کیا ہے۔میں اللہ کو اپنی ذات میں واحد صفات میں یکتا اور افعال میں تیس گپٹل اور حقیقی معبود سمجھتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کے ملائکہ پر ایمان لاتا ہوں جو اللہ نے پیدا کیے ہیں۔اور تمام ان رسولوں اور کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے بھیجیں ایمان رکھتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ تمام انبیاء تمام اولیاء اور تمام انسانی کمالات کے جامع لوگوں میں ایک ہی ہے جس کا نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔میرے واہمہ کے واہمہ میں بھی نہیں آتا کہ کوئی اور ہو۔حضرت صاحب کا ایک شعر یاد آ گیا ہے۔لے ے اے در انکار و شکر از شاہ دیں خادمان و چاکرانش را به بین ہم جب دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کیسے پاک گروہ تھے اور مجد د کیسے۔یہ تو قصے کہانی بات ہو جاتی۔لے اے وہ شخص جو دین کے بادشاہ ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات بابرکات کے بارہ میں شک وانکار میں مبتلا ہے تو ذرا ان کے خادموں اور نوکروں کو تو ملاحظہ کر۔