حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 329 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 329

حقائق الفرقان ۳۲۹ سُوْرَةُ الْعَصْرِ لیکن تمہار اوجود اس گاؤں میں گواہی ہے کہ احمد کا غلام بننے سے کیا فضل آتا ہے میں تم کو اب اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ میرے پھر تقریر کرنے تک تمہیں کوئی بات سنائے یا تقریر کرے۔تو یاد رکھو ہمارا معیار یہ ہوگا کہ ان مذکورہ بالا عقائد کے موافق کوئی بات ہو یا اس کی تفصیل ہو تو ہماری طرف سے ہے اور اگر اس کے خلاف کسی کے منہ سے نکلے تو وہ ہمارے عقائد کے مطابق نہیں۔اسلام چونکہ حق کے اظہار کے لئے آیا ہے۔جیسا کہ اس سورہ شریف سے ظاہر ہے۔اس لئے جہاں دین کی بہت سی باتیں پہنچانی پڑتی ہیں۔وہاں ہم تم کو دنیا کے متعلق بھی ایک مختصر سی بات سناتے ہیں اور وہ بھی در اصل دین ہی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کا کام امن پر موقوف ہے۔اور اگر امن دنیا میں قائم نہ رہے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا۔جس قدر امن ہو گا۔اسی قدر اسلام ترقی کرے گا۔اس لئے ہمارے نبی کریم امن کے ہمیشہ حامی رہے۔آپ نے طوائف الملوکی میں جو مکہ معظمہ میں تھی اور عیسائی سلطنت کے تحت جو حبشہ میں تھی۔ہم کو یہ تعلیم دی کہ غیر مسلم سلطنت کے ماتحت کس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے۔اس زندگی کے فرائض سے ”امن“ ہے۔اگر امن نہ ہو تو کسی طرح کا کوئی کام دین ودنیا کا ہم عمدگی سے نہیں کر سکتے۔اس واسطے میں تاکید کرتا ہوں کہ امن بڑھانے کی کوشش کرو۔اور امن کے لئے طاقت کی ضرورت ہے۔وہ گورنمنٹ کے پاس ہے۔میں خوشامد سے نہیں بلکہ حق پہنچانے کی نیت سے کہتا ہوں کہ تم امن پسند جماعت بنوتا تمہاری ترقی ہو۔اور تم چین سے زندگی بسر کرو۔اس کا بدلہ مخلوق سے مت مانگو۔اللہ سے اس کا بدلہ مانگو۔اور یاد رکھو کہ بلا امن کوئی مذہب نہیں پھیلتا اور نہ پھول سکتا ہے۔میں اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت صاحب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے اس احسان کے بدلہ میں ہم اگر امن کے قائم کرنے میں کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ اس کا نتیجہ ہم کو ضرور دے گا اور اگر ہم خلاف ورزی کریں گے تو اس کے بد نتیجے کا منتظر رہنا پڑے گا۔دوسری بات جو سمجھاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ باہم محبت بڑھاؤ۔اور بغضوں کو دور کر دو۔اور یہ محبت