حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 327
حقائق الفرقان ۳۲۷ سُوْرَةُ الْعَصْرِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله۔(النساء : ۸۱) پھر جزا و سزا کا ایمان ہے۔وہ بہت سی نیکیوں کا سر چشمہ ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ آپ تو ابد الآباد غیر منقطع عذاب کے قائل نہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ آخر ہم بھی تمہارے ساتھ آ ملیں گے۔بازار میں جارہے تھے۔میں نے کہا کہ روپے لو اور دو جوت کھا لو۔نہ مجھے کوئی جانتا ہے نہ تمہیں۔اس نے قبول نہ کیا کہ میری ہتک ہوتی ہے۔میں نے کہا پھر جہاں نے کہا پھر چہار اولین آخرین جمع ہوں گے۔وہاں یہ بے عزتی کیسے گوارا کر سکو گے۔پھرایمان بالقدر تمام انسانی بلند پروازیوں کی جڑ ہے۔کیونکہ جب یہ یقین ہو کہ ہر کام کوئی نتیجہ رکھتا ہے۔تو انسان سوچ سمجھ کر عاقبت اندیشی سے کام کرتا ہے۔دیکھو اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔اور اس سے انگریز قوم نے خصوصیت سے فائدہ اٹھایا ہے پشاور سے کلکتہ تک رستہ صاف کیا تو کیا کچھ پایا۔مسلمان اگر مسئلہ قدر پر ایمان مستحکم رکھتے تو ہمیشہ خوشحال رہتے۔پھر جیسا ایمان ہو اسی کے مطابق اس کے اعمالِ صالحہ ہوں گے۔نماز، زکوۃ، روزہ ، حج، اخلاق فاضلہ ، بدیوں سے بچنا۔یہ سب ایمان کے نتائج ہیں۔پھر اسی پر مومن سبکدوش نہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ جو حق پایا ہے۔اسے دوسروں کو بھی پہنچائے۔اور اس حق پہنچانے میں جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرے اور صبر کی تعلیم دے۔صوفیاء میں ایک ملامتی فرقہ ہے۔وہ بظاہر ایسے کام کرتا ہے۔جس سے لوگ ملامت کریں۔رنڈیوں کے گھروں میں کسی دوست کے سامنے چلے جائیں گے۔وہاں جا کر پڑھیں گے قرآن شریف اور نماز۔مگر رات وہیں بسر کریں گے۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔کہ آمر بالمعروف اور نا ہی عن المنکر خود ملامتی فرقہ ہوتا ہے۔جب مومن کسی کو بری رسوم و عادات کی ظلمت سے روکے گا تو تاریکی کے فرزندوں سے ملامت سنے گا۔میرا حال دیکھ لو کہ ملامتی فرقے والے مجھ سے زیادہ بدنام ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔پس مومن کو کسی فرقے میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں۔بلکہ وہ حق کا مبلغ اور اس پر مستقل مزاجی اور استقامت سے قائم رہے۔پھر وہ ہر قسم کے دنیا و آخرت کے خسران سے محفوظ رہے گا۔( بدر جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۔۲) ا جس نے رسول کا حکم مانا اور اس کی اطاعت کی بے شک اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔