حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 292

حقائق الفرقان ۲۹۲ سُوْرَةُ الْقَدْرِ سُوْرَةُ الْقَدْرِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ قدر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے اسم پاک کی مدد سے جو رحمن و رحیم ہے۔ إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ - ترجمہ بے شک ہم نے اس کو شب قدر میں اتارا ہے ۔ ہے۔ تفسير ليل - ظلمت اور قدر دال کے سکون کے ساتھ بمعنے مرتبہ۔ یہ دونوں صفتیں اس جگہ اکٹھی کی گئی ہیں ۔ لیلتہ القدر ۔ ایک خاص رات رمضان شریف کے آخیر دھا کہ میں ہے۔ جس کا ذکر سورۃ الفجر میں وَالَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ( الفجر : ۵) میں بھی کیا گیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ ۔ (البقرہ: ۱۸۶) اور دوسری جگہ بیان فرما یا إِنَّا أَنزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر : ۲) ان دونوں آیتوں کے ملانے سے بھی معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر رمضان شریف میں ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور بھی زیادہ تشریح کر کے یہ پتہ دیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کے آخیر دھا کہ کی طاق راتوں میں ہوا کرتی ہے۔ کسی سال اکیسویں شب کو ، کسی سال ۲۳ یا ۲۵ یا ۲۷ یا ۲۹ ویں شب کو ۔ اس شب کے فضائل صحیح حدیثوں میں بے حد بیان فرمائے ہیں ۔ انا انزلته کا مرجع جس طرح قرآن شریف سمجھا گیا ہے ۔ اسی طرح اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک بھی مراد ہے۔ اسی لئے انزَلْته فرمایا تا کہ قرآن اور منزل علیہ القرآن دونوں ہی مرجع ٹھہریں ۔ ورنہ أَنْزَلْتُهُ هَذَا الْقُرْآنَ فرمانا کوئی بعید بات نہ تھی ۔ لیل وہ ظلمت کا زمانہ ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت سے پہلے کا زمانہ تھا۔ جس کو عام طور پر ایام جاہلیت لے اور رات کی جب وہ گزرتی ہے۔ ۲ رمضان کا مہینہ جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا۔