حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 293 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 293

حقائق الفرقان ۲۹۳ سُوْرَةُ الْقَدْرِ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور قدر دال کی سکون کے ساتھ وہ قابل قدر زمانہ ہے۔جس زمانہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت شروع ہوئی اور اس کی مدت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں سے ۲۳ سال کی مدت تھی۔جس میں ابتدا الی آخر سارے قرآن شریف کا نزول ہوا۔ایک طرف ظلمت کے ایام ختم ہوئے اور دوسری طرف قابلِ قدر زمانہ شروع ہوا۔اس لئے یہ متضاد صفات لیل اور قدر یہاں آ کر ا کٹھے ہو گئے۔شب قدر یا لیلۃ القدر دال کی حرکت کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔قرآن شریف میں بھی شہر اور فجر کی طرح قدر کی دال متحرک ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ راگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۶) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس وقت ان کی بعثت کی بڑی ضرورت تھی۔لوگ نہ اسماء الہی کو جانتے تھے نہ صفات الہی کو۔نہ افعال سے آگاہ تھے، نہ جزا وسزا کے مسئلہ کو مانتے تھے۔انسان کی بد بختی اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے مالک، اپنے خالق کے نہ اسماء کو جانے نہ صفات کو۔غرض لوگ اس کی رضا مندی سے آگاہ تھے نہ اس کے غضب سے۔ایسا ہی انسانی حقوق سے بے خبر۔سب سے بڑا مسئلہ جو انسان کو نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔وہ جزا و سزا کا مسئلہ ہے۔اگر شریف الطبع انسان کو معلوم ہو کہ اس کام کے کرنے سے میری ہتک ہوگی یا مجھے نقصان پہنچے گا تو وہ کبھی اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔بلکہ ہر فعل میں نگرانی کرتا ہے۔مختلف طبائع کے لوگ اپنے مالک کے اسماء ، صفات کے علم اور جزا وسزا کے مسئلہ پر یقین کرنے سے نیکیوں کی طرف توجہ کرتے اور بدا فعالیوں سے رکتے ہیں۔لے چنانچہ ملک عرب میں شراب کثرت سے پی جاتی اور الْخَمْرُ جَمَاعُ الْإِثْمِ صحیح بات ہے۔پھر فرمایا النِّسَاء حَبائِلُ الشَّيْطَانِ۔" سوم۔ملک میں کوئی قانون نہیں تھا۔ایسا اندھیر پڑا ہوا تھا۔جن سعادتمندوں نے نبی کریم کے ارشاد پر عمل کیا۔وہ پہلے بے خانماں تھے۔پھر بادشاہ ہو گئے۔لے شراب گناہوں کا مجموعہ ہے۔۲؎ عورتیں شیطان کی رسیاں ہیں۔