حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 282
حقائق الفرقان ۲۸۲ سُوْرَةُ التَّيْنِ برنگ پیشگوئی سنائے گئے اور پہلی آیتوں میں جو نوح مراد لیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح کے طوفان کے وقت جو کبوتری خشکی کی خبر لائی اس کے منہ میں زیتون کی شاخ تھی اور دوسری نہج پر اس سے مراد یہ لی گئی ہے کہ دراصل ان آیات میں حضرت مسیح اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو بتایا ہے اور ان بشارتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق فرمائی تھیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ان آیات میں ان عظیم الشان پیشگوئیوں کی طرف اشارہ ہے جو تورات شریف میں مذکور ہیں۔کتاب استثناء ۳۳ باب ۲ میں مسطور ہے۔خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔اور حبقوق ۳ باب ۳ میں ہے۔" آئے گا اللہ جنوب سے ( یعنی مکہ سے ) اور قدوس فاران کے پہاڑ سے ( جو مکہ کا پہاڑ ہے ) اس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔چنانچہ سینا سے حضرت موسیٰ “ جیسا صاحب شریعت نکلا۔ساعید سے حضرت مسیح ظاہر ہوئے اور فاران سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ان آیات میں حضرت مسیح کا پتہ تین اور زیتون سے دیا گیا۔وہ پہاڑ جس پر یروشلم آباد ہے اس کے دوٹکڑے ہیں۔ایک کو اب تک زیتون کی پہاڑی کہتے ہیں اور دوسرے کو تین کہتے ہیں۔اور ساعیر ان دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔سوتین اور زیتون کے ذکر سے حضرت مسیح کی جائے ظہور کا پتہ دینا منظور ہے کیونکہ زیتون پہاڑ کے پاس مسیح نے ایک گدھے کا بچہ منگوایا تھا اور اس کے ذریعہ سے اپنی نسبت ایک بڑی پیشینگوئی کو ظاہر کیا تھا ( دیکھ لوقا ۱۹ باب ۳۰ متی ۲۱ باب اہمتی ۱۱ باب ۱) اور تین پہاڑی کے پاس (جس کو تین اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہاں انجیر کے درخت تھے ) حضرت مسیح نے ایک معجزہ ظاہر کیا تھا ( دیکھو مرقس باب ۱۴) اور انجیر کا نشان دیکھنے پر ایک شخص ایمان لایا ( یوحنا باب ۴۸) طور سینا پر حضرت موسیٰ کو خدا کی طرف سے احکام ملے اور ان پر تجلی الہی ہوئی۔امن والا شہر یعنی