حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 281 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 281

حقائق الفرقان ۲۸۱ سُورَةُ التَّيْنِ تشبیہہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی ہے جو بعد میں آنے والے تھے اور فوائد اور نفع رسانی کی رو سے بہ نسبت انجیر کے زیتون میں منافع بہت زیادہ ہیں۔کھانے کے علاوہ روشنی کے کام میں بھی آتا ہے اور روشنی بھی ایسی کہ جس میں دھوئیں کا نام تک نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ والے رکوع میں ۱۱ / ۱۸ زیتون سے مراد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دے کر اس رکوع کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس کو براہین احمدیہ صفحہ ۱۷۷ میں ملاحظہ کر لیں۔مقام تو اس قسم کا تھا کہ اس سارے بیان کو براہین سے ہم نقل کر دیتے مگر چوں کہ یہ صرف نوٹ ہی کے طور پر ہیں اس لئے طوالت کے خیال سے صرف۔حوالہ پر کفایت کیا گیا۔اليسَ اللهُ بِاَخيم الحكمينَ۔حاکموں پر جو حاکم ہوتا ہے۔اس کا یہی کام ہوتا ہے کہ حکمت اور مصلحت کی بناء پر ماتحت حکومتوں کو بدل دے۔سورۃ شریف کا مکی ہونا یا مدنی ہونامختلف فیہ ہے۔حضرة عباس فرماتے ہیں کہ مدینے میں نازل ہوئی ہے ممکن ہے کہ کچھ حصہ مکی اور کچھ مدنی ہو۔حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک رات نماز عشاء میں سورۃ التین کو ایسی خوش الحانی اور سہانی آواز سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا کہ بخدا آپ کی اس قرآۃ سے زیادہ خوش الحانی میں نے کسی اور سے نہیں سنی۔مسنون ہے کہ اس سورہ شریف کے ختم پر جواباً بَلَى وَ انَا عَلَى ذلِكَ مِنَ الشَّاهِدِین کہا جاوے۔بَلدُ الْآمین۔یہ تمہارا شہر جو دارالامن ہے خدا کی زبردست طاقت کا ایک عظیم الشان نشان ہے۔اس گھر کا بنانے والا ابراہیم علیہ السلام تھا۔جو ابوالملت کہلاتا ہے۔اس کے دشمنوں نے ان کے ہلاک کرنے کے لئے کیا کیا منصوبے کئے مگر بالآخر خدا کا ہاتھ اپنا کام کر گیا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں کا کوئی نام و نشان بھی نہیں جانتا اور آپ کی ذریت اس قدر ہے کہ اسے کوئی گن نہیں سکتا اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا حال ہوگا۔یہ واقعات اہل مکہ کو