حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 283
حقائق الفرقان ۲۸۳ سُورَةُ التَّيْنِ مکه معظمه دشت فاران میں ہے۔کیونکہ حضرت اسمعیل اور بی بی ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی سرزمین میں چھوڑ گئے تھے (دیکھو پیدائش ۲۱ باب ۲۱) اس دشت سے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ گر ہوئے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فتح مکہ کے دن مکہ میں تشریف لائے۔اور ان کے ہاتھ میں آتشی شریعت تھی۔یعنی مجرموں اور ستم گاروں کو شمشیر تیز کی نار میں بھسم کرنے آئے تھے۔آپ ہی کے سبب سے خدا جنوب سے آیا اور دنیا اس کی ستائش سے بھر گئی۔پس تين وَزَيْتُونَ۔طُورِ سِينِين بَلَد الآمين ) یعنی شہر مکہ ) تین عظیم الشان انسانوں کی یادگار ہیں۔جن کی ستائش ہزار ہا سال سے تمام عالم میں ہو رہی ہے۔کیا امیر کیا غریب، کیا بادشاہ کیا فقیر ان مقدس انفاس کی مدح و ستائش کو موجب برکت سمجھتا اور اُن کے فیوضات سے مستفیض ہو رہا ہے۔اور یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں حیثیتوں سے اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ خلقت عطا ہوئی ہے۔جن کے نمونے یہ تینوں برگزیدہ انبیاء علیہم السلام ہیں۔اور جن کی تبلیغ سے ہر ایک انسان اپنی فطرت پر قائم اور فطری نقشے پر جمارہ سکتا ہے۔مگر بد عملی اور بے ایمانی کی وجہ سے بھی انسان ایسا خراب ایسا بد اور ایسا غلیظ ہو جاتا ہے کہ ارذل ترین حیوانات سے بھی پرے جا رہتا ہے۔ہاں جولوگ ایمان اور اعمالِ صالحہ پر قائم ہیں اور اس تنزل اور فساد سے محفوظ رہتے ہیں۔وہ اجر غیر منقطع حاصل کرتے ہیں۔پس ایسے ایسے الہی انتظامات انسان کے احسن تقویم میں پیدا کرنے پر بھی جو شخص خدا کے مقصد اور مصلحت حقہ پر نظر نہ کرے اور آفرینش انسان کو بطور لہو و لعب سمجھے اور اس کو اعمال کے نتائج کے ملنے کا ذمہ وار اور جزا سزا کا مورد نہ سمجھے بڑا ہی بے وقوف ہے۔جزا اور یوم الجزا کی تکذیب کرتا ہے۔حالانکہ وہ دنیا میں برابر مطبع اور غیر مطبع بروں اور بھلوں کے انجام و عواقب کو دیکھتا ہے۔جو دنیاوی حکام کی طرف سے ان کو ملتے رہتے ہیں۔تو کیا خدا تعالیٰ جو احکم الحاکمین ہے وہ انسان کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دے گا اور