حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 186
حقائق الفرقان ۱۸۶ سُوْرَةُ الْبُرُوج یوم الموعود سے مراد بدر کا دن ہے۔جس دن بڑے بڑے اشرار اور معاندان حق ابو جہل وغیرہ ہلاک ہوئے اس دن کا نام یوم الفرقان بھی ہے۔(فیصلہ کا دن ) اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس دن کی آمد کو قسموں کے پیرایہ میں بیان فرمایا ہے۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج - وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ - وَشَاهِدٍ وَ مَشْهُودٍ - یہ سورۃ اس وقت اتری۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سب مسلمان جو آپ پر ایمان لائے تھے۔مصائب اور تکالیف کا نشانہ بن رہے تھے۔کفار مسلمانوں کو سخت ایذا ئیں پہونچاتے۔انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتیں۔مسلمان ہونے کی وجہ سے جلتی ریت پر لٹایا جاتا اور بت پرستی کے لئے مجبور کیا جاتا۔کسی کو سولی پر لٹکا دیا جاتا۔کسی کو جان سے ہی مار دیا جاتا۔مسلمانوں کے لئے یہ سخت مصیبت اور ابتلاء کا وقت تھا۔دنیا ان پر تنگ ہو رہی تھی۔اسلام اور توحید کی خاطر جان دینا گوارا کرتے مگر ایمان دینا گوارا نہ کرتے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی اور نظیر ا اصحاب خندق کا واقعہ فرما کر مسلمانوں کو تسلی دی۔اور کفار کوتنبیہ کی۔اور اس بات کی پیشین گوئی کی کہ جس طرح کھائی والے کا فرا اپنی کرتوتوں کی وجہ سے آخر کا رخود ہی طمعہ نار ہوئے اُسی طرح کفار مکہ بھی آخر کار یقیناً اور لاریب طمعہ نار حرب ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔اور قیامت کے دن یہ بڑا خوفناک اور پر عبرت موقع ہو گا۔جبکہ یہی خدا کے مامور و مرسل جو دنیا میں ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔عزت کے تخت پر جلوہ افروز ہوں گے اور ان کی امت کے سرکش اور شریر لوگ جو دنیا میں بڑے بڑے معزز اور رئیس خیال کئے جاتے ہیں اور تضحیک و استہزاء سے پیش آتے ہیں وہاں ذلت کے گڑھے میں گرائے جائیں گے۔اور سخت نادم اور رسوا ہوں گے۔پس ان کفار مکہ کو اس دن کے مصائب اور تکالیف سے ڈرنا چاہیے۔جب کہ دنیا میں وہ انقلاب عظیم واقع ہو۔یوم الجزاء قائم ہو۔سب کے سامنے مالک عرش بریں کے حضور کھڑے ہوں اور اپنے اعمال کی جو ابد ہی کریں۔پیغمبروں کو جھٹلانے والے ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرائے جائیں گے۔اور ان کے ماننے والے تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے۔اس سورۃ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے