حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 185

حقائق الفرقان ۱۸۵ سُوْرَةُ الْبُرُوج سُوْرَةُ الْبُرُوج مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم - ہم سورہ بروج کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔یہ مکی سورۃ ہے اس میں بڑی بڑی پیش گوئیاں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی کامل اور خاتم النبین ہونے اور مخالفین و منکرین کے ہلاک ہونے اور مومنین کے بالآخر کامیاب اور بامراد ہونے پر دلائل بیان کئے گئے ہیں اور پھر ان پیشگوئیوں کے لئے فرعون اور قوم ثمود کی ہلاکت کے واقعات کو اور اصحاب الاخدود کے واقعہ کو برنگ تائید پیش کیا ہے کہ مامورین اور مرسلین کے مخالف ہمیشہ ہلاک ہوئے اور اسی طرح آئمہ الکفر کا حال ہوگا۔آخر میں قرآن مجید کی حفاظت کی زبر دست پیش گوئی کی ہے۔بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظ۔لوح محفوظ کے متعلق مسلمانوں نے جو کچھ مان رکھا ہے۔اس کو بجائے خود رکھ کر اس سے یہ بھی مراد ہے کہ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ تختیوں میں رکھا ہوا ہے یعنی کبھی زمان کا امتدادا سے انسانی دستبرد کے نیچے نہیں آنے دے گا اور اس میں کسی قسم کی تحریف و تبدیل نہ ہو سکے گی چنانچہ دوسری جگہ اس کی تائید میں فرمایا۔إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ قرآن مجید کی حفاظت کے اسباب کی توضیح اور تشریح یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ کس کس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا انتظام فرمایا ہے بلکہ صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی کے طور پر فرما دیا ہے کہ قران مجید فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظ ہے اور واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ فی الواقع وہ محفوظ ہے۔یہاں تک کہ اس کا رسم خط تک ابتک برابر محفوظ چلا آتا ہے۔غرض یہ سورۃ بھی پیشگوئیوں پر مشتمل ہے اور مختصر طور پر اسے درج کیا جاتا ہے۔